Skip to main content

چنار - I



  زندگی اب چودھویں کے چاند، پھولوں کی خوشبو اور انتظار کے احساس وغیرہ سے بہت آگے نکل گئی ہے۔ اور ان احساسات کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنے کا من کر کرتا ہے۔ پلٹنے کو جی چاہتا ہے۔ 


کچھ ہفتوں قبل یونیورسٹی کے دوستوں کے ہمراہ پہاڑوں کی بلندیوں کو چھونے نکل پڑے۔ رات کے آسمان پر جھلمل کرتے ستاروں کو اتنے قریب سے دیکھا تو کچھ یقین آیا کہ ہاں میں ابھی زندہ ہوں۔ چنار کے درختوں پر سرکتی دھوپ کو دیکھا تو یقین مضبوط ہوا۔ دوستوں کے چہروں پر سے جھلکتا خلوص دیکھا تو گھر سے باہر کی دنیا پر کچھ بھروسہ بڑھا۔


 آپ جانتے ہیں کہ چنار پہاڑوں پر ہی کیوں دکھتے ہیں؟ کیونکہ وہ سخت جان درخت ہے اور ارتقاء سے گزر کر اس نے ایسی ساخت بنا لی ہے کہ وہ مشکل فضا میں پھل پھول سکتا ہے۔ یہ جان کر احساس ہوا کہ زندگی اور زندہ رہنے کی کوشش ہی تمغہ حیات ہے!

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


کچھ دن مجھ پر بہت مشکل آتے ہیں۔ اور ان دنوں اگر میں کچھ لکھ نہ لوں نہ کسی سے کچھ کہہ نہ لوں تو عجیب سی ٹیسیں اٹھنے لگتی ہیں۔ آنکھوں کے عقب میں آنسو آ کر ٹھہر جاتے ہیں اور جوں جوں لکھتا چلا جاتا ہوں، آنکھیں بھرنے لگتی ہیں اور پھر اک اک کر کہ بہنے لگتے ہیں۔ 

ایسا ہی اک مشکل دن وہ بھی تھا جب مجھے یہ احساس ہوا کہ ہاں وہ محبت ہی تھی۔

 کہتے ہیں نا کہ نہ جاننا بھی کبھی نعمت ہوتی ہے۔ ہم جب بڑے ہوتےہیں تو پھر اپنی ٹین ایج کے فیصلوں پر ہنستے ہیں کیونکہ ہمیں لگنے لگتا ہے کہ ہم اب بڑے ہو گئے ہیں۔ اور پھر محبت کو، اپنی ہی محبت کو ٹاکسک اور ٹرگر رسپانس اور نہ جانے کیا کیا کہہ جاتے ہیں۔ لیکن پھر جب اپنے ارد گرد پھیلی دنیا میں آپ کو صرف ایک ہی شخص کے نام  یا خیال سے وارمتھ ملتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ ہاں وہ محبت ہی تھی۔ اور پھر جب آپ اس دنیا کی دلدل میں دھنسنے لگتے ہیں تو اُس محبت کی پاکیزگی کا احساس ہوتا ہے۔ 

یہ چند سطریں میں نے چند سال قبل لکھی تھیں لیکن یہ اب بھی ویسی ہیں: 

بند آنکھوں سے دیکھا ۔۔۔
ایک خواب۔۔۔
فقط ایک خواب کہ جس میں
تمہاری محبت محسوس کر لوں
میری اٹھائ ہوئ اپنی ذات کے گرد 
ساری دیواروں کے انہدام  کو کافی ہے!

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کہتے ہیں نا ماؤں کو سب معلوم ہوتا ہے۔ وہ میرے سامنے اُس کا نام لینے سے جھجھکتی تھیں ہمیشہ۔ اور میں سوچتا تھا کہ ایسا کیوں ہے۔ دراصل ہم نے 
pretend کرنا 
اپنے والدین سے ورثے میں لیا ہے۔ ہم نے بھی ہمیشہ اپنے جذبات چھپائے ہیں

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کئی مرتبہ خود سے وعدہ کر چکا ہوں لیکن ہمیشہ ہار جاتا ہوں۔ تھک گیا ہوں اپنے ہی دل و دماغ سے لڑ لڑ کر۔ ہمیشہ گھائل ہو جاتا ہوں اور اگلنے آ جاتا ہوں یہاں۔

نہ من بیہودہ گرد کوچہ و بازار می گردم
مذاقِ عاشقی دارم پئے دیدار می گردم 

نصرت کہہ رہے ہیں اور میں سن رہا ہوں۔۔۔ خدا مجھ پر رحم کرے۔ دعاؤں کی درخواست

Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...