کہتے ہیں کہ اک دن ایک شخص نے شیخ عبد القادر جیلانی رح سے سوال کیا کہ تقویٰ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : " اگر ایک انسان اپنے دل کو(یعنی اپنے جزبات اور خواہشات) کسی تھال میں رکھ کر بھرے بازار میں لے جاۓ اور اسے شرمندگی نہ ہو تو یہ تقویٰ ہے۔" شیخ رحمہ اللّٰہ علیہ کے اس قول سے ہمارے سامنے تین نکات آتے ہیں 1۔ انسان کا دل اس حد تک پاک ہو کہ اسے اپنے دل کو کھول کر رکھ دینے میں کوئ شرم محسوس نہ ہو 2- اسے یہ غم نہ ہو کہ لوگ کیا کہیں گے۔ 3- اس کے ظاہر اور باطن میں تضاد نہ ہو۔ تو وہ شخص مُتَّقی ہے۔ تو آئیے کہ ہم بھی اپنے دل میں جھانکیں کہ ہماری خواہشات کا محور اور محرّک کیا ہے ؟ کیا یہ فنا ہو جانے والی دنیا ہے یا اللّٰہ کی رضا جو کہ جنت کی ضمانت ہے۔ہمیں اللّٰہ سے چھوٹ جانے کا ڈر ہے یا کسی انسان کی خفگی کا احساس۔ ہمارے دلوں میں دوسروں کے لیے نفرت، حسد اور بغض کتنا ہے۔ اود محبت، بھائ چارہ اور اور بھلائ کے احساس کے لیے ہمارے دل میں کتنی جگہ ہے۔ہمیں خوشی ہوتی ہے تو کس بات پر ؟ ہمارا دل کب نادم ہوتا ہے؟ ہم اللہ کے دین کے معاملے میں زیادہ حسَّاس ہیں یا ...
a boy on the journey of healing...