Skip to main content

Posts

Showing posts from February, 2018
             <3 😊    فلسفئہ محبت فروری کی چہچہاتی صُبحیں اور خوشبودار شامیں۔۔۔ زندگی کی الجھنوں سے بیزار کر کہ بے خطر سا کر کہ مجھ کو جُھکے درخت کے ساۓ میں لا بٹھا دیتی ہیں مجھ کو اک کتاب تھما دیتی ہیں مجھ کو صبح کی ٹھنڈک چھاؤں سے لے کر شام کو ڈھلتے ساۓ تک دم سادھ کے بیٹھا رہتا ہوں ۔۔۔ روز اک پرندہ آتا ہے پھولوں کے دامن سے شاید محبت چُن لے جاتا ہے جھیل کے اُس پار سے روز اک جھونکا آتا ہے پانی میں لہریں بناتا ہوا جھیل کے اِس پار آتا ہے کنول کے نازک پھولوں سے  خوشبو چرا لیتا ہے اور روز میری کتاب میں  اک پھول گِرا دیتا ہے اُس پھول کا نام محبت ہے ڈھلتے سورج کی ترچھی کرنیں جھیل کی خاموشی میں رنگ بھرتی ہیں ۔ اُسے رنگِ محبت کہتے ہیں ۔ اندھیرے کی گہرائیوں میں ڈوبتے مشرق کے افق پر اک تارہ چمکنے لگتا ہے ۔ مینڈک بولنے لگتا ہے چڑیا ماں بھی گھر لوٹ آتی ہے ۔ وہ گھر محبت کہلاتا ہے  فروری کی چہچہاتی صُبحیں اور خوشبودار شامیں ۔ مجھے محبت لوٹا دیتی ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو جب زمین پر اتارا تو اس کے سینے میں جذبات بھی اتارے ۔ انسان حساس بھی ہوتا ہے ، مضبوط بھی ۔ محبت بھی کرتا ہے اور نفرت بھی، دشمنی بھی مول لیتا ہے اور دوست بھی اچھا ہے ۔ روتا بھی ہے اور ہنسنا بھی جانتا ہے ، صبر بھی کرتا ہے اور جلد باز بھی بہت ہے ۔ انسان تو "آل اِن ون " ہے ۔ اللّٰہ نے اک مخلوق کو اتنی طاقتوں سے نواز ہے ، اتنی فوقیت دی ہے ۔ حتیٰ کہ فرشتے بھی جانتے تھے ۔ تبھی تو انہوں نے خون خرابے کا ذکر کیا لیکن اللّٰہ رب العزت کی ذات تو دوسرا رُخ بھی جانتی تھی ۔پھر اللّٰہ نے انسان کی زندگی کی اک حد متعین کر دی جسے انسان عُمر یا وقت کہتا ہے۔ اور پھر اللّٰہ اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے کہ ان سب نعمتوں کو اب میری راہ میں لگا دو ۔کتنی خوبصورت بات ہے نا کہ لامحدود ذات اک مٹی کے پتلے میں صلاحیتیں اور طاقتیں ڈال کر اسے سرسبز باغوں ، خوشنما وادیوں ، پتھر سے سر ٹکرتی سمندر کی لہروں کے بیچ اتار دیتا ہے اور پھر اک چھوٹا سا آڈر -اطاعت !! بس ان جزبوں کا ٹھیک استعمال ۔  مشکل کیا ہے ۔ اللہ کے دشمنوں سے دشمنی ، اس کے دوستوں کا رف...