زندگی اب چودھویں کے چاند، پھولوں کی خوشبو اور انتظار کے احساس وغیرہ سے بہت آگے نکل گئی ہے۔ اور ان احساسات کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنے کا من کر کرتا ہے۔ پلٹنے کو جی چاہتا ہے۔ کچھ ہفتوں قبل یونیورسٹی کے دوستوں کے ہمراہ پہاڑوں کی بلندیوں کو چھونے نکل پڑے۔ رات کے آسمان پر جھلمل کرتے ستاروں کو اتنے قریب سے دیکھا تو کچھ یقین آیا کہ ہاں میں ابھی زندہ ہوں۔ چنار کے درختوں پر سرکتی دھوپ کو دیکھا تو یقین مضبوط ہوا۔ دوستوں کے چہروں پر سے جھلکتا خلوص دیکھا تو گھر سے باہر کی دنیا پر کچھ بھروسہ بڑھا۔ آپ جانتے ہیں کہ چنار پہاڑوں پر ہی کیوں دکھتے ہیں؟ کیونکہ وہ سخت جان درخت ہے اور ارتقاء سے گزر کر اس نے ایسی ساخت بنا لی ہے کہ وہ مشکل فضا میں پھل پھول سکتا ہے۔ یہ جان کر احساس ہوا کہ زندگی اور زندہ رہنے کی کوشش ہی تمغہ حیات ہے! ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کچھ دن مجھ پر بہت مشکل آتے ہیں۔ اور ان دنوں اگر میں کچھ لکھ نہ لوں نہ کسی سے کچھ کہہ نہ لوں تو عجیب سی ٹیسیں اٹھنے لگتی ہیں۔ آنکھوں کے عقب میں آنسو آ کر ٹھہر جاتے ہیں اور جوں جوں ل...
a boy on the journey of healing...