جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔
مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔
جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند تھی اور پانی کی رفتار بھی کافی زیادہ تھی۔
پرندے اپنے گیلے پر جھٹک رہے تھے۔ کوئل کی کو کو اس منظر کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہی تھی۔ زمیں نرم پڑ چکی تھی۔ درخت نکھرے بکھرے سے تھے۔ جن پر بارش کے قطرے ٹھہرے ہوئے تھے۔
تمہیں یاد ہے جب ہم اکثر بارش کے بعد وہاں جایا کرتے تھے اور وہاں لیوز ولا کے ساتھ چمبیلی کے درخت کے نیچے تم مجھے ٹھہرنے کا کہہ کر درخت کی ٹہنیوں کو جھٹکتی تھیں اور دھرا سارا پانی مجھ پر آ گرتا تھا؟ میں وہاں کافی دیر کھڑا رہا اس امید پر کہ تم آ کر یہ شرارت کرو گی۔
میں نے امید کے ہاتھوں ہمیشہ شکست کھائی ہے۔
میں نہر کے کنارے کافی دیر بیٹھا رہا
شام ہونے لگی تھی۔ پرندے خاموش ہو چکے تھے۔ ٹڈیاں بولنے لگیں تھی۔ سکوت گہرا ہو رہا تھا۔
تمہارا خیال۔ تمہارے چہرے کے دھندلے خدوخال اب مٹ رہے تھے۔ آنسو خشک ہو چکے تھے۔
چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا (پروین شاکر)
کل سے پھر دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگلنے لگے گی۔
___________________
Comments
Post a Comment