آج انسان کی زندگی دن بدن پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی جا رہی ہے۔ مصروفیات موبائل کے ماڈلز کی طرح اپڈیٹ ہوتی جا رہی ہیں ۔ وقت مختصر ہو رہا ہے۔ طرح طرح کی ڈِسٹریکشنز انسان کو پوری طرح گھیرے ہوۓ ہیں۔ غم، کاش کہ کسی کو کوئ غم ہی ہوتا۔ سنجیدہ اور قابلِ قدر اقدار اب ناپید ہو چکی ہیں۔ اور انسان کو فرصت ہی نہیں کہ اس گھٹن زدہ حصار سے نکلے۔ انسان نشہ کرنے لگا ہے ۔ کسی کو کام کا نشہ اور کسی کو سگریٹ کا۔ کسی کو انسان کا نشہ اور کسی کو سوشل میڈیا اور یوٹیوب کا۔ مختصر یہ کہ انسان اک غیر فطری اور بے مقصد زندگی گزار رہا ہے !! میرا من چاہتا ہے کہ سرد رات کو کھلے آسمان تلے بیٹھ کر لکڑیاں جلا کر وصل کے گیت گاؤں مگر کیا کروں کل اسئنمنٹ جمع کرانی ہے۔ جی کرتا ہے کہ کوئ چھوٹا سا غم پالوں مگر کیا کروں۔ جدید دور کا انسان ہوں۔ خوشی کو سیلیبریٹ کرنے کا وقت نہیں ملتا تو۔ دل چاہتا ہے کتاب پڑھوں مگر کیا کروں ٹائم مینیجمنٹ نے دل چھین لیا ہے۔ ایک بات بتاؤں !! دل میں بہت سی اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی آرزوئیں ہیں جو اکیسویں صدی نے چھین لیں ہیں۔ میں نے فطری زندگی کے حوالے سے کچھ سراغ لگاۓ ہیں جو درج ذیل ہیں اور ...
a boy on the journey of healing...