Skip to main content

Posts

Showing posts from May, 2021

اک افسانہ

  شہر سے دور ریگِ صحرا پر آبلہ پا رقص کرتا وہ اجنبی خود کو تاج محل کی بالکنی پر کھڑا اک شہزادہ تصور کرتا ہے کہ جو اپنے مقام و مرتبہ کے زعم میں اپنے سامنے پھیلی سلطنت کے باشندوں کے ہیچ ہونے کا خیال ذہن میں لا کر مسکراتا ہے  وہ اپنی حالتِ زار کا قصور وار اک صحرا زدہ مسافر کو ٹھہراتا ہے کہ جو یہاں صدیاں صرف کر چکا۔ کاش کہ وہ تخت سے اتر آتا کہ اس کے غموں کا کچھ مداوا ہوتا۔ کاش وہ یہ سمجھ سکتا کہ دل سلطنت نہیں ہے جسے بادشاہ فتح کر سکیں یا جس پر کسی دوسرے انسان کا اختیار ہو بلکہ دل اک مکاں ہے.  !وہ اجنبی اب تلک محوِ رقص ہے

choti eid vibes

Smile  عید مسکراہٹوں کا دن ہے، اس کی خوشی لوگوں سے ہے اور اس کی شناخت مٹھاس ہے! لہجوں کی مٹھاس، گفتگو کی شیرینی، رویوں کی خوبصورتی، میٹھے پکوان اور خوش لباسی۔ معاف کر دینے کا رویہ ہوتا ہے۔ غلطی کوتاہیوں پر معافی مانگنے کی فضا ہوتی ہے۔ اپنوں سے ملاقات ہوتی ہے۔۔۔ اور پھر عیدی۔۔۔  مزا دوبالا ہو جاتا ہے   میں یہ سمجھتا ہوں عید کے موقع پر دوسروں کو صرف یہ ہی کہہ دینا کہ " اچھے لگ رہے ہو " یا " یہ کپڑے تمہارے ساتھ اچھے لگے ہیں" ان کی عید کو بہت خوبصورت بنا دیتا ہے۔ جبکہ ہم لوگ کیا کرتے ہیں کہ دوسروں کے کانفیڈٰنس کو اپنے ذہریلے جملوں کے ذریعے دھڑام سے نیچے گرا پھینکتے ہیں ۔۔۔ اور پھر یہی ہمارا عموماََ رویہ ہوتا ہے۔   خیر،  کیا ہی خوبصورت انعام ہے نا اللہ کا! یہ دن سال بھر کی ذہنی تھکاوٹ دور کر دینے کو کافی ہوتے ہیں۔ اگر یہ فضا قائم رہے تو ہمارے سارے معاشرتی مسئلے حل ہو جائیں کیونکہ ہمارے ان مسائل کی جڑ ہی ہمارے دوسرے انسانوں کے ساتھ رویے ہیں اور ہمارے رویوں کی ڈوریں ہماری ذہنی و جزباتی صحت سے جا ملتی ہیں۔ یہی تو عید کا انفرادی سطح پر پیغام ہے ــــــــــــــــ...

ice-break

 جب دل بے چین ہو، آنکھیں پتھر بن چکی ہوں اور جسم درد کی شدت سے ٹوٹ رہا ہو تو جہان دن دیہاڑے تاریک ہو جاتا ہے۔ مایوسی چھانے لگتی ہے،  دل گھبرانے لگتا ہے اور آسماں ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے۔  انسان بس آنکھیں موندے خواب دیکھنا چاہتا ہے اور بس۔  یہ مبالغہ آرائ نہیں ہے اور نہ ہی فقط لفظوں کی بناوٹ۔ بلکہ یہ اک ایسے  دل کی کیفیت ہوتی ہے جو بس خواب بُن رہا ہوتا ہے۔ اور خودساختہ تاویلوں میں مگن ہوتا ہے۔ اللہ کبھی آُپکو اس کیفیت سے نہ گزارے۔ آمین  زندگی میں اکثر ایسے لمحات آتے ہیں۔  میں آج اس کیفیت میں اٹھا۔ وضو کر کہ قرآن کا اک حصہ خوش الحانی سے پڑھنے لگا۔ جوں جوں پڑھتا گیا ذہن کے دریچوں سے غبار چھٹتا گیا۔ بقول رب تعٰالیٰ دل کی نرم زمین پر بارش ہوتی محسوس ہوئ جس سے دل کی کھیتیاں لہلہانے لگیں۔ آنکھیں پُر نم ہوئیں اور پھر چھلک گئیں۔ سکون کی اُس کیفیت کو شاید میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔  رب کی رحمت کی یہی امید اور اس کی بندگی کا شوق ہی دلوں کیلئے زندگی ہے۔ ورنہ خود فریبی کے شکار یہ دل کب تک جیتے۔ کب تک میں یہ بار اٹھا سکتا جو میں پچھلے 5 سالوں سے اٹھائے ہوئے ہوں۔...