Skip to main content

Posts

Showing posts from April, 2022

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔

زندگی بنیادوں کے ساتھ ہی خوبصورت ہے۔ یہ اک بہت واضع بیانیہ ہے۔  ہم انسان عمر کے ساتھ ساتھ اور علم کے بیشتر ورژنز حاصل کر لینے کے بعد اپنی بنیادوں سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ہماری پسند، ناپسند کے معیارات تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ ہماری ترجیحات بدلتی چلی جاتی ہیں اور سارے سفر میں ہمیں کچھ دیر کسی سنگ میل پر بیٹھ کر سوچنے کا موقع تک نہیں مل پاتا۔ ہماری بنیادی اخلاقی، خاندانی، معاشرتی اقدار ہمیں سطحی رسومات محسوس ہونے لگتی ہیں۔ ہم اک مصنوعی مزاج کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اور یہ سب ہمیں کُول لگتا ہے۔  میں بھی اک ایسے ہی سفر کا راہی ہوں۔ بس فرق اتنا ہے کہ کسی سنگِ میل پر بیٹھا سوچ رہا ہوں۔ محسوس کر رہا ہوں۔  آج کافی دنوں بعد بھتیجیوں کو جھولے دلوانے لے کر گیا تو بچوں کی اس دنیا کو بڑے غور سے دیکھا۔ خود کو انہی میں سے ایک تصور کیا۔ ننھے عزیر کو ریل گاڑی پر بیٹھا چکراتا محسوس کیا۔ لیکن 20 روپے دے کر وہ جھولے لے نہ پایا۔ 15 ویں رمضان کے بعد سے عید کی تیاریوں کا عروج اور وہ خوشی  محسوس کرنے کی کوشش کی جو گزرشتہ 7 سالوں سے محسوس نہ کر پایا۔ وہ غیر ذمہدار عزیر اچھا لگا کہ جسے زمانے بھ...