آج آسمان بہت خوبصورت ہے! گہرے بادل کے ٹکڑے ہوا کے دوش اڑ رہے ہیں اور ان کے عقب میں چھپا سورج بادل کے ان ٹکڑوں کے کنارے ایسی خوبصورت روشنی کی لکیر بنا رہا ہے کہ جنت کے کسی ٹکڑے کا گمان ہوتا ہے۔ ہوا گزرشتہ دنوں کے مقابل ٹھنڈی ہے اور درجہ حرارت بھی کافی کم ہے۔ درخت گھنے ہیں۔ پرندے آج سُکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ پرندے بھی امن سے ہیں اور انسان بھی اطمینان کی زندگی جی رہا ہے لیکن ہم سے میلوں دور اک بستی ہے جس کے باشندے اپنے گھروں کے ملبے پر بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں کہ ہمارا قصور کیا ہے۔ اب تو صرف اپنے بارے اگر سوچوں تو گھِن آتی ہے۔ سوچتا ہوں کہ ہمیں تو پی-ٹی-ایس-ڈی ہوتی ہے۔ وہ تو مستقل ٹراما سے گزر رہے ہیں۔ ان پر تو پوسٹ ٹراما حالت کا اطلاق ہوتا ہی نہیں ہے۔ ہمارے کیا غم ہیں۔ ہمارے دکھ کیا دکھ ہیں۔ ہمیں تو خوش ہونا بھی نہیں آتا اور وہ دھماکوں کی تھاپ پر رقص کرتے ہیں۔۔ وہ اک ایسی بستی ہے کہ جس کے باشندوں کے خواب پورے نہیں ہوتے۔ کہ جو بچوں کو جنتے ہیں شہید ہونے کے لیے ہیں۔ ہمارے غم کیا غم ہیں۔ اور اک میں ہوں کہ ابھی تک خود کو سمبھال نہ سکا۔ اتنا تھک چکا ہوں کہ موسم کی خوبصورتی پر مسکرا بھی ...
a boy on the journey of healing...