Skip to main content

Posts

Showing posts from April, 2018
اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ !! ۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ، آج مجھے جو کہنا ہے۔ جو سہنا ہے مجھے آج ہی اسے کہہ لینے دو۔ سہہ لینے دو ، آج ہی سارے گِلے  ہو جائیں تو اچھا ہے۔ کہہ دوں گا۔۔۔  وقت نہیں تھا !! جنہیں ملنا ہے مِل جائیں۔  جو بچھڑنا چاہیں آج ہی میری بے نیازی کی عمر میں۔ بچھڑ جائیں۔ اچھا ہے !! اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ۔ دو لمحے سستا لوں اب۔ مجھے ڈر ہے کہ۔۔۔  میں بھول جاؤں گا۔ آگے بڑھنے کے رستے سب۔ مجھے لِکھ لینے دو۔۔ تُم،اُس،فلاں،اُن سے رکھی۔ ساری توقعات جلا کر ۔۔۔ بچی ہوئ راکھ سے سنگِ میل پر لِکھ لینے دو : اچھا ہے !! اپنے سارے بے معنی سے خواب مقدس خواب۔ بے حُرمتی کے ڈر سے۔ بہتے دریا کی نذر کر دوں  پھر چلتا ہوں۔۔۔ اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ اک خط کسی کی چوکھٹ پر رکھنا ہے۔ رکھ آؤں ۔۔۔ پھر چلتا ہوں۔۔۔ اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ !! ۔۔۔۔۔۔ عزیر امین۔
جب اندھیرا گھُپ ہو جاۓ تو بجاۓ اس کے کہ انسان روۓ، پیٹے اور واویلا کرے۔ اسے روشنی ایجاد کر لینی چاہیے۔ مگر اس قندیل کو جلانے کے لیے خوابوں کا تیل لگتا ہے ، ہمت اور جرأت کی بازی لگتی ہے ، جذبات کا خوں ہوتا ہے ۔ کیونکہ جب دل میں گھُٹن ڈیرا ڈالنے لگے تو احساس کی کھڑکیوں پر سے محبت کے پھول دار ، دبیز پردے اٹھانے پڑتے ہیں ۔ جیسے بے بسی ، توقعات اور خوابوں سے اکتایا ہوا شخص صبح  انگڑائیاں لیتا ہوا اٹھتا ہے اور تیزی سے کھڑکی پر سے پردے سرکاتے ہی بستر پر گِرتا ہے۔ اور خواب کے وہ سارے مناظر اپنے ذہن میں پھر سے دُہراتا ہے۔ اسی اثناء میں سورج کی ٹھنڈی روشنی کمرے کے ایک اک گوشے کو منور کر دیتی ہے۔اور اس کے دل سے وہ سارے غم مٹا دیتی ہیں جن سے وہ چاہتے ہوۓ بھی نہ بچ پاتا تھا۔ مگر وہ خواب رہ رہ کر اسے اذیت دینے آتے ہیں۔ اور وہ جھٹ سے جھٹک دیتا ہے۔وہ سارے خوف اسے پھر سے دکھتے ہیں مگر وہ اب ان پر یقین  ہی نہیں رکھتا۔ جب سورج کی کرنیں  ماحول کے باریک  ذروں پر پڑتی ہے تو ہر سمت  کہکشاں کا گماں ہونے لگتا ہے۔روشنی ایجاد ہو چکی تھی۔ محبت اور سکون کی جنگ میں اندھیرا ہار چکا تھا۔مگر ا...
پتے سوکھے گِر چکے ہیں اب بہار سے کہہ دو، آ جاۓ دیوانگی گھَٹتی جا رہی ہے اب ہوش سے کہہ دو ، آ جاۓ تم  یاد کرانے آۓ وہ سب؟  یاداشت تو، ٹھہرو ، آ جاۓ  جاگتا ہوں اماں ، دو لمحے اور اک خواب آنا تھا، بس وہ آ جاۓ محبت کر لوں؟ اور نہیں تو !! چپ چاپ سے غم سہنا تو آ جاۓ اک راز سمجھنا تھا مجھ کو کوئ سمجھانا چاہے ؟ سو آ جاۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔۔ عزیر امین۔