Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2020
چمک رہے تھے کہ جو ادھورے رہ گئے۔ وہ ساری امنگیں اور ولولے جو کسی کا م نہ آئے، میرے خون میں سرد خلیوں کی صورت دوڑ رہے تھے۔میرے حوصلے کب مضبوط ہوں گے!!؟ میں اپنے اند ر ہی اندر چیخا ۔لیکن میں اب یہ سب بھول جا نا چاہتا تھا۔اب میں اور جنید یونیورسٹی میں اک ڈھابے پر بیٹھےچائے کی چُسکیاں لیتے ہوے گزرے سال کو ڈسکس کر رہے تھے-میں بھی بڑِے فخر سے اپنی کامیابیاں گنوا رہا تھا اُسے۔ وہ میرے اندر کے طوفان سے ب ےخبر تھا اور میں اُس کے۔ وہ بھی ایسا ہی ہو گا - میں نے سوچا۔ یہ شام آج بھی ویسی ہی تھی کہ جیسی ایک سال قبل تھی۔ اب میں پھر اپنے حوصلے بلند رکھنا چاہتا تھا۔ ہم ٹہلتے ٹہلتے new year resolutions طے کرنے لگے۔ راہ چلتے دونوں جانب درختوں کے نیچے پڑۓ خزاں رسیدہ پتے مجھے اپنے ہمنوا محسوس ہو رہے تھے۔ وقت نے گزر ہی جانا ہے! یہ سال تو لڑکپن بھی لے گیا۔ ذمہ داریاں دے گیا۔( یہ بس دل کے بہلانے کو کہہ دیا  :D  )۔ شہسوار ہوں۔۔۔ وقت نے کم عمری میں بہت کچھ سکھا دیا۔ چند لمحے کھو دینے کا قلق رہے گا مگر جس لمحے نے آںا ہے وہ ابھی سامنے ہی ہے۔ کیا خبر کہ کیا لاۓ- رب جانے! پبلک کے لیے اتنا ہی۔ اجازت چاہ...