اُس کے سرہانے تلے ملا وہ خط واقعی آخری خط ثابت ہوا۔ وہ اب تک سکتے میں تھی ۔۔۔ اب اُسے یہ زندگی، اک کٹھن زندگی اس کے بغیر جینی تھی۔۔۔ اُسے کچھ یاد آیا اور وہ دوڑتی ہوئی گئی اور الماری سے وہ بیگ نکال لائی کہ جس میں اس کے تمام خط تھے۔۔۔۔ وہ کوئی خاص خط ڈھونڈ رہی تھی۔ اس نے ایک خط کھولا اور پڑھنے لگی ۔۔۔ کیونکہ اس خط میں ہی وہ ہمت تھی جو اسے درکار تھی۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ " آج نومبر کی آخری شام ہے " ایسے محسوس ہوتا ہے کہ تم سے ملے ایک دہائی بیت گئی ہے۔ تمہاری آنکھوں کا رنگ اور چہرے کے خدوخال ذہن سے مٹ چکے ہیں۔ ( میں نے تمہاری آنکھوں اور تمہارے چہرے کو کبھی ایک لمحے سے زیادہ دیر کے لیے دیکھا ہی کب ہے!) وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے۔ گردِ وقت کی تہیں نقشِ کفِ پا مٹا دیتی ہیں۔ خشک آنکھوں سے خون بہنے لگتا ہے۔ زندگی کی مصروفیات ہم سے احساس چھین لیتی ہیں۔ اپنوں کی کمی کا احساس ۔۔۔ اور پھر ہم لوگ سیلفش ہو جاتے ہیں۔ اس دنیا کی حقیقتوں کی چکی میں پس کر یوں لگتا ہے ک...
a boy on the journey of healing...