Skip to main content

Posts

Showing posts from November, 2021

آخری ادھورا خط ( قسط دوم )

  اُس کے سرہانے تلے ملا وہ خط واقعی آخری خط ثابت ہوا۔ وہ اب تک سکتے میں تھی ۔۔۔ اب اُسے یہ زندگی، اک کٹھن زندگی اس کے بغیر جینی تھی۔۔۔ اُسے کچھ یاد آیا اور وہ دوڑتی ہوئی گئی اور الماری سے وہ بیگ نکال لائی کہ جس میں اس  کے تمام خط تھے۔۔۔۔ وہ کوئی خاص خط ڈھونڈ رہی تھی۔ اس نے ایک خط کھولا اور پڑھنے لگی ۔۔۔ کیونکہ اس خط میں ہی وہ ہمت تھی جو اسے درکار تھی۔   ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  " آج نومبر کی آخری شام ہے " ایسے محسوس ہوتا ہے کہ تم سے ملے ایک دہائی بیت گئی ہے۔ تمہاری آنکھوں کا رنگ اور چہرے کے خدوخال ذہن سے مٹ چکے ہیں۔ (  میں نے تمہاری آنکھوں اور تمہارے چہرے کو کبھی ایک لمحے سے زیادہ دیر کے لیے دیکھا ہی کب ہے!)   وقت بہت تیزی سے  گزر رہا ہے۔  گردِ وقت کی تہیں نقشِ کفِ پا مٹا دیتی ہیں۔ خشک آنکھوں سے خون  بہنے لگتا ہے۔ زندگی کی مصروفیات ہم سے احساس چھین لیتی ہیں۔ اپنوں کی کمی کا احساس ۔۔۔ اور پھر ہم لوگ سیلفش ہو جاتے ہیں۔ اس دنیا کی حقیقتوں کی چکی میں پس کر یوں لگتا ہے ک...

escape.

زندگی کبھی کبھی ہمیں ماضی کی گلیوں میں لے نکلتی ہے۔ انہی فیورٹ لوگوں کے پاس، انہیں زنگ آلود دہلیزوں پر۔ دل کی اُس پرانی ویران بستی میں جس پر سے نہ جانے کب اک طوفان کا گزر ہوا۔ جو اب صحرا کا منظر پیش کر رہی ہے۔  اب کون رُخ کرے گا اس جانب؟ موسموں کا گزر تک نہیں ہے اب تو۔ ہاں، موسم! پھول! خوشبو! چاند! مسکراہٹیں! دھڑکنیں! آنسو! ڈائری کے نم ورق! کتابیں! کتابوں کی خوشبو! چمبیلی کا پھول! پھول! پھولوں کی خوشبو! ۔۔۔  اب تو حالت یہ ہے کہ  پھر کوئ آیا دلِ زار نہیں کوئی نہیں راہ رو ہو گا کہیں اور چلا جائے گا  یہ وقت عمر بھر ہمیں حیران کرتا رہے گا۔ عجیب فکریں گھڑ لاتا ہے ہمارے لیے۔ نئے جزبے۔ منفرد ایستھیٹکس حوالے کر دیتا ہے۔ اور جب ہم لوگ اس سب کے عادی ہونے لگتے ہیں تو وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیا ایسا سبھی کے ساتھ ہوتا ہے یا ہماری چوائسز ہوتی ہیں؟ ہم گھبرا جاتے ہیں۔ ہم انسان لوگ جینے کے نئے ماڈلز ایجاد کر لیتے ہیں۔ قبول کر لیتے ہیں! ؟ شاید ایسا ہی ہے! جیسا بھی ہے۔۔۔ بہت غلط ہے۔ بس پھر ہم حال سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور زندگی کبھی کبھی ہمیں ماضی کی گلیوں میں لے  نکلتی ہے۔...