Skip to main content

Posts

Showing posts from August, 2020

بلا عنوان!

موسم کی خوبصورتی مجھے عجیب کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہےاور میں کچھ کہے بغیر، کچھ لکھے بنا رہ نہیں پاتا۔ گہرے بادلوں کی دبیز چادر جب اس آلودگی سے اٹے جہان کو ڈھانپ لے، بادل گرجیں اور مائیں بچوں کو سینوں سے لگائے استغفار کا ورد کرنے لگیں۔گھروں کو لوٹتے ، بھیگتے راہ رو ۔۔۔ اور تیز ہوا اپنے ساتھ نمی کے خنک ذرات لانے لگےاور آنکھوں کے رستے ٹھنڈک سینے میں اترنے لگے۔ درختوں سے گرتے پتے خزاں کی نوید سنائیں ۔ پتوں پر پھسلتے بارش کے قطرے ۔۔۔ میں ایک ہاتھ سے کتاب کو سینے سے لگائے اور دوسرے ہاتھ کو بارش کی طرف پھیلائے بالکونی پر کھڑا ،سن رہا تھا، محسوس کر رہا تھا۔ وقت گویا کچھ لمحوں کیلئے تھم چکا تھا۔ فضا میں بس پرنالوں سے آتے چھتوں پر کھڑے پانیوں اور ہوا کی سرسراہٹ کا ساز تھا۔ اور بارش کی آواز ۔۔۔ گویا کوئ دھیمے لہجے میں گنگنا رہا ہو۔ یہ سب تھا ۔۔۔ مگرکوئ خیال تھا ۔۔۔ جس کی کمی کا احساس مجھے بے چین کیے ہوئے تھا۔جوں جوں رات بڑھ رہی تھی، یہ خیال شدت اختیار کیے جا رہا تھا۔ ہائے!آنے والی سردیوں کی لمبی راتیں ۔۔۔

بدلتے زاویے

موسمِ گرما کی راتوں میں تاروں بھرا  شفاف آسماں مجھے میرے خواب یاد دلاتا ہے۔وہ خواب جو میں نےنہ جانے کیسے، مگر گنوا دیے تھے۔ وہ خواب جو  مرے مقصدِ زندگی کے حصول کی راہ میں سنگِ میل  کی حیثیت رکھتے ہیں۔     اپنے مدار میں تیرتے ہر دو مادوں کے بیچ کڑوڑوں میل کا فاصلہ اور اس کائنات کی ہر شے کا دوسری کے ساتھ تعلق۔۔۔ مجھے یہ معاملہ اس بات پر دلالت کرتا محسوس ہوتا ہے کہ انسان کا بھی ان ستاروں سیاروں کے ساتھ کوئ تعلق ہے۔۔۔  انسان کا ذہن بھی اپنے ااندر اک پوری کائنات سموئے ہوئے ہے۔ جس میں ہر شے کا دوسری کی ساتھ تعلق ہے اور ہونا چاہیے۔ یہ زندگی اتنی محدود نہیں ہے کہ ہم انسانوں نے اس کو جتنا سمجھ رکھا ہے۔ پڑھائ ،انٹرٹینمنٹ محبت، شادی ، نوکری، پنشن ، جھگڑے ۔۔۔ ہم نے بس زندگی کو غیر شعوری طور پر سہی مگر بس اسی ڈومین میں قید کر رکھا ہے۔ہم نے زندگی میں خواب رکھے بھی ہیں تو بس نفع ، گھر ، گاڑی , لوگ۔۔۔  زندگیاں اک بوسیدہ فلو میں گزری چلی جا رہی ہیں۔ ہم نے کبھی رات آسمان کو آنکھیں بھر کر دیکھا جو نہیں ہے۔ کبھی اپنے ہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے۔۔۔ کسی گنجان سڑک پر ٹہلے ج...