Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2018
دنیا میں محبت کے سینکڑوں رنگ اور ہزاروں کمالات ہیں ۔ یہ محبت کے لین دین سے ہی تو دنیا خوبصورت ہے ورنہ نفرتوں کی پھیلتی ہوئی وبا ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ، ورنہ ہر رنگ پھیکا ہوتا ، ہر صبح غمزدہ اور ہر شام بے نام ہوتی ۔ محبت تو گھر کے صحن میں اتری اُس چڑیا کی چہچہاہٹ ہے جو صبح کی نوید سناتی ہے ۔ محبت تو ڈائری کے ورق پر لوٹتی چاندنی ہے۔جو الفاظ میں ڈھل جاتی ہے۔محبت تو کسی پرانی ضخیم  کتاب میں پڑی پھول کی مرجھائی پتیاں ہیں  محبت تو کاغذ کی اک کشتی کی مانند ہے۔نازک اور بے بس !! محبت تو اک  چھتری ہے جس کے ساۓ تلے رہ کر وقت کی کڑکتی دھوپ اور برستی گھٹاؤں  سے بچا جا سکتا ہے  محبت تو اک دعا  ہے جو اعزازاً ملتی ہے نہ کہ خیرات میں ۔محبت دعووں اور وعدوں کا نام نہیں بلکہ خلوص کا شربت ہے اور انسان کو محبت ہی خلوص کے حقیقی جزبے سے آشنا کر سکتی ہے۔ اور بڑی بات یہ کہ محبت خیال ہوتا ہے وجود نہیں۔یعنی محبت روبرو ہونا نہیں ہے۔ جب خیال میں وجود کی آمیزش ہو جاۓ تو محبت ، محبت نہیں رہتی بلکہ وحشت بن جاتی ہے۔ہاں !! محبت کے سینکڑوں رنگ اور ہزاروں کمالات ہیں.
ابنِ آدم کی مشہور بے وقوفوں میں سے ایک دوسروں کے ساتھ توقعات کا رکھنا بھی ہے۔ چاہے وہ وقت ہو یا وقت کی رو بہتا کوئ اور ۔ کبھی انسان کچھ الفاظ کی توقع کرتا ہے اور کبھی کسی انجام یا رویہ کی ۔ کبھی آندھیوں سے سکون مانگتا ہے اور کبھی زندگی سے آسانیاں ۔ اور انہی توقعات کو لیے ، اسی انتظار میں وہ زندگی کی قیمتی گھڑیاں ضائع کر دیتا ہے ۔ اور پھر اسے امید کہتا ہے ، اسے اپنا اعتماد اور بھروسہ گردانتا ہے ۔۔۔ "مجھے امید ہے وہ میری ہاں میں ہاں ملاۓ گا " " مجھے یقین ہے کہ فلاں میرا ساتھ دے گا " "مجھے اُس کے کہنے پر بھروسہ ہے " "میرا اعتماد ہے اس پر ، وہ مجھے اکیلا  نہیں چھوڑے گا " اگر تو آپ کی امید ، یقین اور اعتماد یعنی توقعات  پر اک شخص پورا اترتا ہے تو آپ کی اُس شخص سے توقعات مزید مضبوط ہو جائیں گی۔ مگر مستقبل میں اک ہلکی سی رنجش بھی آپ کو ٹھیس پہنچاۓ گی ۔ آپ زندگی کا وہ لمحہ  ہیں بھول پائیں گے جب آپ کو وہ اعتماد ملا تھا ۔ جس گھڑی آپ نے امید اور یقین کے بدلے سکون پایا تھا ۔ آپ اپنے ماضی سے نکل نہیں پائیں گے ۔اور اگر !! آپ کی توقعات کو اسی لمحے ٹھیس پہن...
آج جب میں ظالم کی بے حسی اور مظلوم کی بے بسی کے متعلق سوچتا  ہوں تو گھِن آتی ہے کہ کیسے اک امیر زادہ اک بے بس ، بے کس پر اپنی برتری کا زہر اگلتا ہے اور اک غریب احساسِ کمتری کے پہاڑ تلے دبا جاتا ہے ۔ اک امیر رئیس کسی غریب سائل کو دس روپے سے زیادہ کیوں نہیں دیتا ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ گاڑی میں بیٹھے اک شہزادے کے پاس فقیر اپنی عزت کی قیمت مانگتا ہے اور اُسے صرف نگاہِ حقارت ملتی ہے ؟ کیوں امیر ، غریبوں کے دن استعمال کرتے ہوۓ نگاہِ عالم میں مقام پا لیتے ہیں اور انہیں پھر بھی اک حقیر ملازم کا لقب دیتے ہیں ؟کیوں اک غریب ملازمت کے لیے دھکے کھاۓ اور امیر صرف دو نوٹ لگاۓ ؟ جبکہ امیر بھی مسلم ، غریب بھی مسلمان ،  امیر بھی انسان اور غریب بھی !! وجہ صرف اور صرف یہ ہے انسان کی نظر اُخروی نتائج کو بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ غریبوں ، مفلسوں اور فقیروں کے پھٹے پرانے کپڑوں  گھسے جوتوں اور محدود وسائل پر سے گزرتی ہوئی دھوپ میں چمکتی گاڑیاں ، قیمتی لباس اور کوٹھی بنگلوں پر آ ٹھہر جاتی ہے کیونکہ دولت اور شہرت ہی عزت کا معیار بن چکا ہے یہ ایک ایسی آہنی  دیوار بن چکی ہے کہ اس کو گرانا نا ممکن ہو چکا...