Skip to main content

Posts

Showing posts from December, 2017
                                                      وقت کی حقیقت میں  بس کی کھڑکی سے گاڑیوں کی آمد و رفت ، درختوں پر سستاتے پرندوں کے غول ، سڑک کے کنارے ٹہلتی بیوپاری اور چوک پر کھڑے مزدوروں اور   کو بڑی توجہ سے دیکھ رہا تھا اور  بیک وقت مسکرا بھی رہا تھا اور رو بھی رہا تھا ۔ اپنی بے بسی پر ۔ چاہ رہا تھا کہ جا کر ان سب سے ان کا حال پوچھوں مگر وقت نے مجھے اجازت نہیں دی  اور آنکھ جھپکتے میں ان سب مناظر کو پیجھے  چھوڑتا جا رہا تھا ۔ کیونکہ وقت تو سونے کی بھی قیمت لیتا ہے اور سوچنے پر بھی معاوضہ ۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اللہ نے انسان کو اپنے نظام میں کیسا جکڑا ہوا ہے کہ اسے ہر صورت جینا ہے  ،  کبھی  لمحے اس کی کایا پلٹ دیتے اور کبھی وہ  اچھے وقتوں کی فقط تمنا میں ہی  عمرِ رواں کاٹ دیتا ہے۔ جب وقت اس کی توقعات پر پورا نہ اترے تو انسان کے پاس بے بسی کے سوا کوئی چارہ نہیں اور بہتر تو یہی ہے کہ انسان اس ب...
دور اک پہاڑ تھا روشنیاں ٹمٹماتی دکھ رہی تھیں رات تھی ۔۔۔ اک اونچا آسمان تھا ۔ جوں جوں رات بڑھ رہی تھی افق کے اس پہاڑ پر روشنیاں بھی بڑھ رہی تھیں ۔۔۔ ستارے بھی آسمان پر ۔۔۔ جیسے کوئ تہوار ہو ۔ رفتہ رفتہ ہجوم جیسے بڑھ رہا ہو وہ کچے مکانوں کے مکیں کچھ "بدھو" سے لوگ تھے ۔ اک آگ کا الاؤ تھا ۔ وہ سب گِرد بیٹھے تھے رات کی خاموشی میں  گونجتی مسکراہٹیں ماضی کے احساسِ حسیں!! وہ "جاہل" سے کچھ لوگ تھے "آدابِ زندگی سے "آشنا رات کی تاریکی میں ۔۔۔ بگڑے" ہوۓ بچے" آنکھ مچولی کھیل رہے تھے شہر کے ہوٹل برگر ان سے بہت دور تھے ۔ مگر چہرے ان کے مسکراہٹوں سے معمور تھے ۔ اور یہاں !! شہر کی بے ہنگم زیست !! فقط گزری چلی جا رہی تھی بظاہر مسکراہٹوں کے پیچھے ، ہر دل میں پنہاں طوفان تھے آرزوئیں دن بہ دن بڑھ رہی تھیں ۔۔۔ محبتیں دن بہ دن گھَٹ رہی تھیں سب کچھ تھا مگر کچھ بھی نہیں تھا نہ ادب ، نہ آداب تھے فضا میں تیرتے سراب تھے آرام تھا مگر سکون نہیں تھا مل بیٹھنے کا رواج نہ تھا جو کل تلک عزیز تھے رشتہ داری بیچ ڈالی فاصلے بڑھ گۓ آہ!! میں ن...
ڈھلتی شام میں گھروں کو لوٹتے پرندوں کے جھنڈ ہوں یا صبح کی خنکی میں بادلوں کی باریک ردا سے پھوٹتی سورج کی کرنیں  ، خاموش راتوں میں چمکتے ستارے ہوں یا سنہرے دریا میں ڈوبتا سورج ۔۔۔ دسمبر بہت خوبصورت ہے ۔۔۔ اور یہ گزرے ہوۓ سال کی اک تصویر قدرت کے آئینے میں دکھاتا ہے۔ یہ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے ۔ میں آج جب ٹھنڈے دماغ سے گزرے ہوۓ گیارہ ماہ اور پچھلے دسمبر کے سوچے ہوۓ کام دہراتا ہوں تو دل ہی دل میں پچھتا لیتا ہوں۔ کہ میں تو شاید اس سے پیچھے کھڑا ہوں ۔ میں تو اک قدم بھی نہیں بڑھا ۔ اپنی رفتار کا دنیا سے موازنہ کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ دنیا سے آگے نکلنے کی کوشش میں میں نے خود کو بھی گنوا دیا ۔ دنیا کے سحر میں ایسا لپٹا کہ اخلاق کے ضابطے بھول گیا ۔ میں اپنی خوشیوں کا قاتل آپ ٹھہرا ۔ تجربہ پوچھو تو سواۓ بے چینی  کے کچھ نہیں پایا ۔ مجھے منفی سوچ کا مصداق نہ سمجھیے گا ۔ میرے پاس سواۓ کامیابیوں کے مثبت کچھ بھی نہیں ہے ۔ اور کامیابی تو کوئ اتنی بڑی کامیابی نہیں ہے ۔ آہ میرا آنے والا دن گزرے ہوۓ دن سے بدتر ٹھہرا ۔ بس !! ڈوبتا ابھرتا سورج ، گھٹتا بڑھتا چاند ، خوشی غمی کی آنکھ مچولی...