( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)
پیاری۔
پھر سے عید مبارک!
انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔
ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔
یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہی نہیں آیا تھا مجھے۔ وہ لمحہ ایک سیکنڈ کے چوتھے حصے کے برابر تھا یا شاید اس سے بھی کم۔ لیکن میں وقت کو روک نہ پایا اور پھر سے اس لمحے کے انتظار میں اپنے سارے پلینز ابھی سے کینسل کر چکا ہوں۔ نہ جانے اب کتنا وقت لگے۔۔۔ لیکن یہ بھی یقین ہے کہ وقت کو روکنا میرے بس میں ہے نہ اس لمحے کے طوالت کو بڑھانا۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے
بقول شاعر:
عمر دراز مانگ کہ لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں
تمہارا اپنا ۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہر خط ہی ادھورا ثابت ہو رہا ہے اس کا۔ عجیب ادھورا انسان تھا، بتایا تک نہیں اس خط میں اس نے کہ کراچی جا رہا ہے ادھورا چھوڑ گیا۔" اُس نے اک لمبی آہ بھرتے ہوئے سوچا"
تمہارا اپنا ۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہر خط ہی ادھورا ثابت ہو رہا ہے اس کا۔ عجیب ادھورا انسان تھا، بتایا تک نہیں اس خط میں اس نے کہ کراچی جا رہا ہے ادھورا چھوڑ گیا۔" اُس نے اک لمبی آہ بھرتے ہوئے سوچا"
Comments
Post a Comment