This is the entry for a writing contest. I lost. How could I win ...! These were just random thoughts about love. چند سال قبل جاڑے کی اس شام تک میں مَحَبت پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ ہنستا تھا ان لوگوں پر جو محبت کے دعوے کرتے تھے۔ ان کی کیفیات کا مذاق اڑاتا تھا۔ لیکن پھر اس شام لمحے کے ہزارویں حصے میں کچھ ایسا ہوا کہ وقت تھم سا گیا۔ اس دن سے آج تک میں ہر روز اک صدی جیتا ہوں۔ میری ہر رات جب تک خواب نہ دیکھنے لگوں ہجر کی رات ہے، ہر شب خواب میں وصالِ یار ہوتا ہے۔ محبت میں حساسیت بڑھ جاتی ہے۔ باغ کا اک مرجھایا پھول دیکھ لوں یا کسی قافلے کو خزاں کے خشک پتے پیروں تلے روندتے دیکھوں، اک رستہ بھولی چڑیا کا غم ہو یا سرما کی لمبی راتوں میں چودھویں کے چاند تلے آہیں بھرتے کسی دل جلے کا دکھ، میں سب کو اپنے ہی قافلہ کا اک حصہ سمجھتا ہوں۔ محبت امید کا استعارہ ہے! محبوب کی طرف سے بلائے جانے کی امید ۔محبت انتظار کا نام ہے! رخ محبوب کو اک نظر، فقط اک نظر دیکھ لینے کا انتظار۔ محبت اظہار کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ محسوس کر لی جاتی ہے۔ محبت کی ہر کہانی میں محبوب کیلئے نہریں نکالی...
a boy on the journey of healing...