Skip to main content

مکتوب بنام ۔۔۔



آج آسمان بہت خوبصورت ہے! گہرے بادل کے ٹکڑے ہوا کے دوش اڑ رہے ہیں اور ان کے عقب میں چھپا سورج بادل کے ان ٹکڑوں کے کنارے ایسی خوبصورت روشنی کی لکیر بنا رہا ہے کہ جنت کے کسی ٹکڑے کا گمان ہوتا ہے۔ ہوا گزرشتہ دنوں کے مقابل ٹھنڈی ہے اور درجہ حرارت بھی کافی کم ہے۔ درخت گھنے ہیں۔ پرندے آج سُکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ پرندے بھی امن سے ہیں اور انسان بھی اطمینان کی زندگی جی رہا ہے

لیکن

 ہم سے میلوں دور اک بستی ہے جس کے باشندے اپنے گھروں کے ملبے پر بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں کہ ہمارا قصور کیا ہے۔ اب تو صرف اپنے بارے اگر سوچوں تو گھِن آتی ہے۔ سوچتا ہوں کہ ہمیں تو پی-ٹی-ایس-ڈی ہوتی ہے۔ وہ تو مستقل ٹراما سے گزر رہے ہیں۔ ان پر تو پوسٹ ٹراما حالت کا اطلاق ہوتا ہی نہیں ہے۔ ہمارے کیا غم ہیں۔ ہمارے دکھ کیا دکھ ہیں۔ ہمیں تو خوش ہونا بھی نہیں آتا اور وہ دھماکوں کی تھاپ پر رقص کرتے ہیں۔۔ وہ اک ایسی بستی ہے کہ جس کے باشندوں کے خواب پورے نہیں ہوتے۔ کہ جو بچوں کو جنتے ہیں شہید ہونے کے لیے ہیں۔ ہمارے غم کیا غم ہیں۔

اور 

اک میں ہوں کہ ابھی تک خود کو سمبھال نہ سکا۔ اتنا تھک چکا ہوں کہ موسم کی خوبصورتی پر مسکرا بھی نہیں سکتا اور ان بستی والوں کے غم میں اک آنسو بھی نہیں بہا سکتا۔ جو خواب رکھتا ہے لیکن ان کا پیچھا کرنا نہیں جانتا۔ وہ عزیر کہ جو امت کے لیے دنیا مسخر کرنا کا خواب رکھتا ہے آج تک اپنے دل و دماغ کو نہیں جیت سکا۔ جو دو قدم آگے چلتا ہے تو دس قدم پیچھے لیتا ہے۔ 

لیکن 

اس سب کے باوجود میں آج بھی مایوس نہیں ہوں۔ میں اپنے لیے، امت کے لیے خود کو بدلنے کے لیے سربکف ہوں۔ وہ وقت آئے گا کہ جب میں پھر سے 14ویں کے چاند کا انتظار کرنے لگوں گا۔ اور میرئ آنکھ سے امت کے درد میں پہلا آنسو نکلے گا۔ جب بادل چھٹ جائیں گے۔ جب خاموشی ٹوٹے گی۔ جب میں اس سیڑھی پر پہلا قدم رکھوں گا کہ جو رفعتوں کو چڑھتی ہیں۔ جب مجھے میرے دکھ بہت چھوٹے لگنے لگیں گے۔ جب میری خوشی کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنا ہو گی۔ 

یہ بھی جان لیجیے کہ، 

آپ کا خیال آج بھی میرے لیے حوصلے کا باعث ہے۔ آپ کی دید آج بھی مجھے اپنے آپ سے بلند کر دیتی ہے۔ آپ کی شخصیت کا عکس آج بھی مجھ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کسی کے لیے کوئی اتنا اہم کیسے ہو سکتا ہے؟خدارا یہ انرجی اب اُسے سونپ دیجیے کہ جو اب میرے خوابوں سے ویسا ہی واقف ہو گیا ہے جیسے آپ تھے۔  بس یہ اِذن اب اُسے دے دیجیے۔ 

کیونکہ، 

مجھے ڈر ہے کہ یہ عزیر جو نہ جانے کب سے اک چہرہ مٹا کر دوسرا بنانے میں مصروف ہے، اپنا وہ حوصلہ بھی نہ مٹا ڈالے کہ جو اُس بستی کے اک بچے کے گال پر گرتے آنسو کو پونجھنے کے لیے درکار ہے! 

اور اک ضروری گزارش، بہت ضروری گزارش ۔۔۔۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ 


Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...