Skip to main content

raw, honest and last one...


انسان کی زندگی اور اس میں پیش آنے والے واقعات اس کے اپنے فیصلوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اور یہ کہاورت ہے کہ : 
dots connect in backwards, not in forward. 

انسان کا ہر رویہ، ہر خیال، ہر بات ۔۔۔ سب کی جڑیں ماضی کے کسی نا کسی واقعے سے لازما ملتی ہے۔ میں نے گزری زندگی کے قیمتی سال کسی دوسری کہکشاں کے روشن ستارے کی آرزو میں گزار دیے ہیں۔ اور کئی شکوک و شبہات اور ڈر کے باعث اس سفر پر بھی نہ نکل سکا۔ بس کہتا ہی رہا۔ روتا ہی رہا۔ اداسی اوڑھے میں نے 6 سال گزار دیے۔۔ نہ جانے کتنے ہی لمحوں کی خوبصورتی میں نے بے نیازی کی بھینت چڑھا دی۔ سورج میرے قریب چمکتا رہا اور میں روشنی کی تلاش میں غم سیتا رہا۔ لڑکپن گزر گیا کوئی دوست نہ بنا سکا جس کے سامنے گڑگڑا سکوں۔ جسے سب بتا سکوں۔ خدا سے بھی دل کھول کر کبھی بات نہ کر سکا تو کوئی مٹی کا پَتلا کیا غم بانٹے گا۔ نہ جانے ذات کا کون سا خلا تھا کہ جو میرے زندگی کے 6 قیمتی سال کھا گیا۔ مجھ سے آج تک کوئی ناخوش نہ رہا۔ میں ایک ٹاپ پرفارمر رہا ہمیشہ۔ ہر میدان میں۔ ہر کام میں۔ لیکن میں خود سے کبھی خوش نہ ہو پایا۔ یہ المیہ نہیں ہے تو کیا ہے۔ میں نے اب تک کوئی اہم تاریخ نہیں  یاد رکھی۔ کیونکہ میں نے کبھی کچھ گہرائی سے محسوس ہی نہیں کیا۔ یا تو اتنا گہرائی سے محسوس کیا کہ کچھ اور یاد ہی نہیں رہا۔ میں نہ خود کو  کبھی توجہ دے سکا، نہ والدین کو، نہ دوستوں کو اور نہ رب کو۔ ایک کتابیں اور قدرت کی خوبصورتی دوست تھیں وہ بھی روٹھتی جا رہی ہیں۔۔۔ تنہائی ساتھی تھی اب وہ بھی کاٹتی ہے۔ پہلے ڈائری لکھ لیتا تھا کچھ غم ہلکا ہو جاتا تھا اب وہ بھی نہیں لکھ پاتا۔ اپنے اندر جھانکنے سے ڈر لگتا ہے۔ پروفیشنل لائف کے مسائل تو اب جان لے رہے ہیں۔ تھک گیا ہوں۔ اب کسی سے کندھا نہیں مانگتا میں۔ ساری خوبصورت یادیں ذہن کے کسی نہاں خانے میں دبکی بیٹھی ہیں اور تلخ لمحات تمام کاٹںے کو دوڑتے ہیں۔ کبھی کبھی کوئی خیال، جانے پہچانے خدوخال آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں اور پھر میں انہیں سارے البمز میں ڈھونڈتا ہوں۔ کہیں کسی تصویر میں مل جائیں تو مسکراتا ہوں۔ اور چہرے کے اظہار سے حال دریافت کر لیتا ہوں۔ پھر رات بھر اُسی دوسری کہکشاں میں اُس روشن ستارے کو قریب سے دیکھ لیتا ہوں۔ بات بھی کر لیتا ہوں اور آنسو بھی بہا لیتا ہوں۔ گڑگڑا بھی لیتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ بس اب میری زندگی میں اداسی کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اور وہ اداسی اس کے علاوہ ہے کہ جو گھونٹ گھونٹ پی چکا ہوں۔ اب مزید ایک گھونٹ بھی پینے کی سکت نہیں رہی مجھ میں۔ غم شاعر بنا دیتا ہے لیکن میرے غم اور جزبات ہی کمزور تھے کہ مجھ سے ایک معیاری شعر نہ کہلوا سکے۔ 

لیکن ان تمام  سالوں نے مجھے نظریاتی پختگی دی ہے۔ مجھے میرے اپنے بخشے ہیں۔ مجھے شعور عطا کیا ہے۔ مجھے تجربات سے گزارا ہے۔ مجھے نچوڑا ہے۔ میں اگر اس سب سے نہ گزرتا اور مجھے اس کا ادراک بھی نہ ہوتا تو میں آج اک مختلف انسان ہوتا۔ یکسر مختلف آدمی۔ اک فریجائل ہوتا۔ مجھے میرے رب نے اس سب سے کسی مقصد کے تحت گزارا ہے، میرا اس بات پر ایمان ہے۔ یہ آنکھوں کی خشک نہریں کبھی تو میری روح کو سیراب کریں گی۔ بس رب کی رحمت کی ابر برس جانے دو۔ اب اتنا بھی برا نہیں گزرے گزرشتہ سال۔ ہمارے اردگرد بہت سی خوشیاں بکھرپڑی ہوتی ہیں ہم لوگ بس ہمت نہیں کرتے۔ اور ہم اس دنیا میں خوش رہنے کے لیے تو نہیں آئے نا۔ 

بس کبھی کبھی زندگی میں لگتا ہے میننگ نہیں ہے۔ یا میری زندگی میں ایک سے زیادہ میننگز ہیں یا میں ڈائیورٹ ہو ریا ہوں۔ دن ہیپننگ نہیں ہوتا، میں اپنے لیے تو چلو کچھ کر ہی رہا ہوں لیکن کیا دوسروں کے لیے کچھ کر رہا ہوں۔ کسی مشن پر کام کر رہا ہوں۔ کسی گریٹر کاز پر۔ کسی نئے خیال پر۔ 

مجھے لگتا ہے میں اک ہیلدی مائنڈ کو مس کرتا ہوں۔ سوچنے والے۔ اور ایک محسوس کرنے والے دل کی کمی محسوس کرتا ہوں۔ تو کیوں نا ٹرائی کیا جائے ہلدی والا دودھ۔ 

dots connect in backwards, not in forward. 

To be continued... 

Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...