Skip to main content

provoked thought.


   

کِواڑ کھلے ہوئے ہیں۔ ہوا کے خنک جھونکے روح میں سرایت کر رہے ہیں۔ پردے لہرا رہے ہیں۔  باہر ساون برس رہا ہے اور اس بار خوب برس رہا ہے۔ بادل کے ٹکڑے ہوا کے دوش اڑ رہے ہیں۔ تھوڑٰی تھوڑی بعد بارش رُک جاتی ہے اور چاند بادلوں کی اوٹ سے نکل آتا ہے۔ مسکراتا ہے۔ میں یہ منظر کھڑکی کی سلاخون کے بیچ سے کتاب پڑھتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ برٹرانڈ رُسل کہتا ہے خوشی ظاہری عوامل میں ہے۔ ابھی میں اس فیصلے پر نہیں پہنچا کہ ٹھیک کہتا ہے کہ نہیں لیکن خامشی ہے۔ گہری خامشی ہے۔ مٹی کی بھینی بھینی خوشبو ہے۔ میری میز پر اک چراغ جل رہا ہے۔ اور پروانے چراغ  پر ٹوٹ پڑے ہیں۔۔۔ ساون کے پروانے۔ جنہیں جلتا چراغ بھاتا ہے۔ ان کے جلتے پر مجھ سے دیکھے نہیں جا رہے۔ انہیں آگ اور حرارت کیوں نہیں محسوس ہوتی؟  


 یہ زندگی بہت خوبصورت ہے لیکن ہم انسان اس کا یہ رُخ نہیں دیکھ پاتے۔ ہم میں ہر شخص بیمار ہے۔ ذہنی بیمار ہے۔ قثافتوں میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ آرزوئیں کرتے ہیں۔ خوش نہیں ہیں۔ اپنے لوگوں سے۔ اپنے آپ سے۔ اپنی فکر اور خیالات سے۔ کوستے رہتے ہیں خود کو۔ سوچتے رہتے ہیں۔ اپنے پہلو میں رکھی محبت کی توہین کرتے ہیں۔ اور اندھیری راتوں میں، خاموش سطروں میں محبت ڈھونڈتے پھر رہے ہوتے ہیں۔ جب خود اپنے آپ سے گھِن آتی ہو تو باہر کی دنیا کیسے اچھی لگے گی۔ ہم اپنی زندگی نہیں جی رہے ہوتے۔ دوسروں کی زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔ اور انہی کی نظروں سے خود کو 24/7 دیکھ رہے ہوتے ہیں۔۔۔ ہم انسانوں نے یہ زندگی اپنے لیے خود عذاب بنا رکھی ہے اپنے ماضی اور مستقبل پر پریشان ہو کر۔ اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو بند دروازے  توڑنے پر لگا کر تھکے ہارے بیٹھے ہیں سب۔ وقت گزر جاتا ہے لیکن نہیں گزرتا۔ لمحہ لمحہ یاد رہتا ہے۔ 

 بارش تھم چکی ہے۔ پروانے خاک ہو گئے۔ چراغ لڑکھڑا رہا ہے۔ بادل چھٹ رہے ہیں۔  چاند روشن ہے۔ آنسوؤں میں  رُسل   کے فلسفے بھیگ گئے ہیں۔ ہوا بدستور چل رہی ہے۔خلیل القمر صاحب لکھتے ہیں: 

تم کیا جانو ساون بھادوں کس کے آنسو ہوتے ہیں۔ 
کچھ تیری آنکھوں سے لیکر، کچھ میری آنکھوں سے لیکر 
کچھ درد سمیٹا لوگوں کا اور لوگوں پر ہی روتے ہیں 
تم کیا جانو ساون بھادوں کس کے آںسو ہوتے ہیں۔ 

 

Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...