زندگی بنیادوں کے ساتھ ہی خوبصورت ہے۔ یہ اک بہت واضع بیانیہ ہے۔
ہم انسان عمر کے ساتھ ساتھ اور علم کے بیشتر ورژنز حاصل کر لینے کے بعد اپنی بنیادوں سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ہماری پسند، ناپسند کے معیارات تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ ہماری ترجیحات بدلتی چلی جاتی ہیں اور سارے سفر میں ہمیں کچھ دیر کسی سنگ میل پر بیٹھ کر سوچنے کا موقع تک نہیں مل پاتا۔ ہماری بنیادی اخلاقی، خاندانی، معاشرتی اقدار ہمیں سطحی رسومات محسوس ہونے لگتی ہیں۔ ہم اک مصنوعی مزاج کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اور یہ سب ہمیں کُول لگتا ہے۔
میں بھی اک ایسے ہی سفر کا راہی ہوں۔ بس فرق اتنا ہے کہ کسی سنگِ میل پر بیٹھا سوچ رہا ہوں۔ محسوس کر رہا ہوں۔
آج کافی دنوں بعد بھتیجیوں کو جھولے دلوانے لے کر گیا تو بچوں کی اس دنیا کو بڑے غور سے دیکھا۔ خود کو انہی میں سے ایک تصور کیا۔ ننھے عزیر کو ریل گاڑی پر بیٹھا چکراتا محسوس کیا۔ لیکن 20 روپے دے کر وہ جھولے لے نہ پایا۔ 15 ویں رمضان کے بعد سے عید کی تیاریوں کا عروج اور وہ خوشی محسوس کرنے کی کوشش کی جو گزرشتہ 7 سالوں سے محسوس نہ کر پایا۔
وہ غیر ذمہدار عزیر اچھا لگا کہ جسے زمانے بھر کی فکر نہیں اور جسکی کُل دنیا اس کے گھر کی چاردیواری اور اس میں موجود خوب صورت لوگ تھے۔ من چاہا کہ زمانے بھر کی ذمہداریاں چھوڑ چھاڑ کر اُسی دور میں لوٹ جاؤں۔ جانتے ہیں یہ سب میں کیوں محسوس کر پایا؟ کیونکہ وہ اچھا وقت ہماری بحیثیت انسان بنیادوں کے قریب تر تھا۔
میں اونچے مکانوں، چمکتی دکانوں اور جدید گاڑیوں پر گھر کی جانب جاتے چمبیلی کی خوشبو سے معطر راستے کو ترجیح دیتا ہوں۔
زندگی بنیادوں کے ساتھ ہی خوبصورت ہے۔
ادریس آذاد کہتے ہیں:
راہ تکنے کے سوا آنکھ کا مقصد کیا ہے

Comments
Post a Comment