سارا دن مصروفیت میں گزر جاتا ہے۔ ایک لمحہ سستانے کو نہیں مل پاتا۔ گزرشتہ کئی ماہ سے یہی روٹین چل رہی ہے۔ نہیں پتا چلتا کہ کب ویک اینڈ آیا اور کب ختم ہو گیا۔ لیکن دن بھر کی اس ذہنی تھکن کے بعد کچھ دیر سستانے کو میں یادوں میں پناہ لیتا ہوں۔ خوبصورت یادوں میں۔
کبھی یونیورسٹی کی کسی کینٹین پر دوستوں کے ساتھ شام کی چائے پر کسی اہم موضوع پر گہری باتیں۔
کبھی موسم بہار کی راتوں کی چیل قدمی۔
کبھی میس کے قیمہ چاول اور کبھی کیفت کا رول پراٹھا
کبھی کچے صحن میں تاروں بھری پُر رونق راتیں اور کبھی کسی گھر کے عقب میں باغیچہ کی کہانیاں
اور کبھی کسی ڈائننگ ٹیبل کے فلیش بیکس
اور کبھی کچھ لمحے فرض کر لیتا ہوں ۔۔۔
وہ عمیق توجہ سے ہر موسم اور ہر خوبصورتی کو محسوس کرنے والی حِس نہ جانے کہاں کھو گئی ہے۔ ریئل ازم کے سراب میں گنوا بیٹھا ہوں شاید۔
یونہی زندگی کٹتی چلی جا رہی ہے۔ میرے دوست مجھ سے ناراض ہیں کہ میں خود کبھی انہیں کال یا رابطہ نہیں کرتا۔ گزرشتہ روز، ایک شام میں نے کانفرنس کال میں سب کو بلایا۔۔۔ خوب گپ شپ ہوئی۔ کہہ رہے تھے کہ یقین نہیں آ رہا کہ عزیر کی کال آ رہی ہے۔ مجھے بھی یقین نہیں آ رہا زندگی کی اس بے رُخی پر۔
Comments
Post a Comment