کسی اجنبی شہر میں
ریل ٹریک پر چلتا میں۔۔۔
حدِ نگاہ پر کسی پلیٹ فارم کا گمان ہوتا ہے
لیکن منظر بدل رہے ہیں۔۔۔
خوف اور امید کے درمیاں
کسی ریل ٹریک پر چلتا میں۔۔۔
کسی یونیورسٹی کا کلاس روم
دو قدم آگے، اک ریسٹوورنٹ۔۔۔
کبھی ایئر پورٹ اور ترکی کی جانب پرواز کا احساس
نمودار ہوتا ہے
خیال آتا ہے کہ۔۔
میں اپنا بستہ کہیں بھول بیٹھا ہوں
دو دن کی بارش کے بعد نکلی دھوپ ہےاور ۔۔۔
میرے ذہن کی پرتیں۔۔۔
کسی امید کی دہلیز پر لے جا رہی ہیں مجھے۔
گویا میرے ہاتھ میں
مناظر کا اک البم ہے اور میں
کوئی تصویر ڈھونڈ رہا ہوں۔
کیونکہ مجھے یقین ہے کہ
تم آؤ گے، باد نسیم کے جھونکے کی مانند
کیونکہ ہمیشہ ۔۔۔
کبھی کسی بھیڑ میں میری جانب ہی دیکھتے
مسکراتے ملے
کبھی کسی مشکل میں ، تمہیں
میں نے اپنے کاندھوں پر سر رکھا پایا
کہ اچانک تم مجھے دوستوں کے درمیاں کھڑے ۔۔۔
کسی جدید لطیفے پر ہنستے دِکھے
تم نے مجھے دیکھا، مسکرائے اور چلے آئے
اور اب میں نہیں۔۔۔
ہم ریل ٹریک پر چلتے جا رہے ہیں۔
مجھے وہ مطلوب منظر مل چکا ہے۔
میں تم سے کہہ رہ تھا کہ۔۔۔
ان چند خوبصورت لمحوں کے احساس میں
میں عمر بھر پتھر بن کر جی سکتا ہوں۔۔۔
وقت کی رفتار تیز ہے اور باتیں بہت۔
کہ اچانک۔۔۔
منظر بدلا اور اب
اک لائبری کا منظر ہے، اک لیپ ٹاپ ہے
قہوہ ٹھنڈا ہو چکا ہے۔۔۔
وقت اب ضرورت سے زیادہ آہستہ چلنے لگا ہے۔
اور میں وہ سارے مناظر بھولنے چاہتا ہوں
اگر بھول پایا تو۔۔۔
Comments
Post a Comment