نہ جانے مجھے کبھی کبھی کیا ہو جاتا ہے۔ عجیب بے چینی۔ بے سکونی۔ ادھورا پن سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ کمزور پڑ جاتا ہوں۔ میری بنیادوں میں ہی، ہوش کے پہلے سالوں میں ہی تم ایسا ادھورا چھوڑ گئی کہ اب میں چاہ کر بھی مکمل نہیں ہو پا رہا۔ ہر خوشی، ہر غم، ہر چھوٹی سے چھوٹی بات تم سے کہنا چاہتا ہوں۔ ہر معاملے میں تمہارا تقطہ نظر جاننا چاہتا ہوں۔ ہر ویک اینڈ پر تمہارا انتظار کرتا ہوں۔ دستک سنتا ہوں تو دوڑتا ہوا جاتا ہوں۔ لیکن تم نہیں دکھتی۔ کبھی تو آؤ۔ ہماری بچپن کے دن۔۔۔ ذہن کی تختی پر بس وہی دن بنتے مٹتے رہتے ہیں۔۔۔ کسی خواب کی طرح۔ ہر رات خواب میں وصال ہوتا ہے۔ کبھی تمہاری بے نیازی، بے رُخی، اور کبھی مسکراہٹ ۔۔۔
صرف اک توجہ کی طلب کب محبت بن گئی میں آج تک نہ جان سکا۔ لیکن یہ محبت ہے، اتنا یقین ہے۔۔۔ یقین، میں بھی یہ ماننا نہیں چاہتا، ایسا بے بس کر دیتا ہے کہ۔۔۔ اور پھر ملنے کی کوئی راہ نہیں دِکھتی تو عجیب ہو جاتا ہوں۔ اندھیرے غار سے نکلتی چمکادڑوں کی طرح۔۔۔گزشتہ سالوں میں تمہاری یاد میں کبھی آنسو نہیں بہنے دیے لیکن نہ جانے کیوں آج بے ساختہ بہہ نکلے۔ میں نے بہنے دیے۔ تمہاری یاد، تمہارے خیال کے سامنے بند بھاندنے کی کوشش نہیں کی۔ ذہن کی فضا اجلی اجلی ہو گئی اور ماضی کی ساری یادیں بلکل آنکھوں کے سامنے دکھنے لگیں۔
اسے تم ٹاکسک کہو، امید کہو، بے وقوفی کہو یا محبت ۔۔۔ میرے لیے تم یہی ہو۔ اور میں یہ آج تک فیصلہ نہ کر پایا کہ یہ جو کچھ ہوا ٹھیک ہوا کہ غلط۔۔ تم ہی کچھ کہو۔۔۔
شاید مستقبل میں اس تحریر کا کوئی قاری ان پہیلیوں کو سلجھا سکے۔ لیکن آج تک ان باتوں اور سوالوں کا جواب کوئی نہ دے سکا۔ کیونکہ یہ جذبات، یہ احساسات بے معنی تو نہیں ہو سکتے۔ ہرگز نہیں
Comments
Post a Comment