Skip to main content

ڈھلتے دسمبرکے آنسو





نہ جانے مجھے کبھی کبھی کیا ہو جاتا ہے۔ عجیب بے چینی۔ بے سکونی۔ ادھورا پن سا محسوس ہونے لگتا ہے۔  کمزور پڑ جاتا ہوں۔ میری بنیادوں میں ہی، ہوش کے پہلے سالوں میں ہی تم ایسا ادھورا چھوڑ گئی کہ اب میں چاہ کر بھی مکمل نہیں ہو پا رہا۔ ہر خوشی، ہر غم، ہر چھوٹی سے چھوٹی بات تم سے کہنا چاہتا ہوں۔ ہر معاملے میں تمہارا تقطہ نظر جاننا چاہتا ہوں۔ ہر ویک اینڈ پر تمہارا انتظار کرتا ہوں۔ دستک سنتا ہوں تو دوڑتا ہوا جاتا ہوں۔ لیکن تم نہیں دکھتی۔ کبھی تو آؤ۔ ہماری بچپن کے دن۔۔۔  ذہن کی تختی پر بس وہی دن بنتے مٹتے رہتے ہیں۔۔۔ کسی خواب کی طرح۔ ہر رات خواب میں  وصال ہوتا ہے۔ کبھی تمہاری بے نیازی، بے رُخی، اور کبھی مسکراہٹ ۔۔۔ 

صرف اک توجہ کی طلب کب محبت بن گئی میں آج تک نہ  جان سکا۔ لیکن یہ محبت ہے، اتنا یقین ہے۔۔۔ یقین، میں بھی یہ ماننا نہیں چاہتا، ایسا بے بس کر دیتا ہے کہ۔۔۔ اور پھر ملنے کی کوئی راہ نہیں دِکھتی تو عجیب ہو جاتا ہوں۔ اندھیرے غار سے نکلتی چمکادڑوں کی طرح۔۔۔گزشتہ سالوں میں تمہاری یاد میں کبھی آنسو نہیں بہنے دیے لیکن نہ جانے کیوں آج بے ساختہ بہہ نکلے۔ میں نے بہنے دیے۔ تمہاری یاد، تمہارے خیال کے سامنے بند بھاندنے کی کوشش نہیں کی۔ ذہن کی فضا اجلی اجلی ہو گئی اور ماضی کی ساری یادیں بلکل آنکھوں کے سامنے دکھنے لگیں۔ 
اسے تم ٹاکسک کہو، امید کہو، بے وقوفی کہو یا محبت ۔۔۔ میرے لیے تم یہی ہو۔ اور میں یہ آج تک فیصلہ نہ کر پایا کہ یہ جو کچھ  ہوا ٹھیک ہوا کہ غلط۔۔ تم ہی کچھ کہو۔۔۔

شاید مستقبل میں اس تحریر کا کوئی قاری ان پہیلیوں کو سلجھا سکے۔ لیکن آج تک ان باتوں  اور سوالوں کا جواب کوئی نہ دے سکا۔ کیونکہ یہ جذبات، یہ احساسات بے معنی تو نہیں ہو سکتے۔ ہرگز نہیں 

Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...