زندگی کبھی کبھی ہمیں ماضی کی گلیوں میں لے نکلتی ہے۔ انہی فیورٹ لوگوں کے پاس، انہیں زنگ آلود دہلیزوں پر۔ دل کی اُس پرانی ویران بستی میں جس پر سے نہ جانے کب اک طوفان کا گزر ہوا۔ جو اب صحرا کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اب کون رُخ کرے گا اس جانب؟ موسموں کا گزر تک نہیں ہے اب تو۔ ہاں، موسم! پھول! خوشبو! چاند! مسکراہٹیں! دھڑکنیں! آنسو! ڈائری کے نم ورق! کتابیں! کتابوں کی خوشبو! چمبیلی کا پھول! پھول! پھولوں کی خوشبو! ۔۔۔
اب تو حالت یہ ہے کہ
پھر کوئ آیا دلِ زار نہیں کوئی نہیں
راہ رو ہو گا کہیں اور چلا جائے گا
یہ وقت عمر بھر ہمیں حیران کرتا رہے گا۔ عجیب فکریں گھڑ لاتا ہے ہمارے لیے۔ نئے جزبے۔ منفرد ایستھیٹکس حوالے کر دیتا ہے۔ اور جب ہم لوگ اس سب کے عادی ہونے لگتے ہیں تو وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیا ایسا سبھی کے ساتھ ہوتا ہے یا ہماری چوائسز ہوتی ہیں؟ ہم گھبرا جاتے ہیں۔ ہم انسان لوگ جینے کے نئے ماڈلز ایجاد کر لیتے ہیں۔ قبول کر لیتے ہیں! ؟ شاید ایسا ہی ہے! جیسا بھی ہے۔۔۔ بہت غلط ہے۔ بس پھر ہم حال سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور زندگی کبھی کبھی ہمیں ماضی کی گلیوں میں لے نکلتی ہے۔ انہی فیورٹ لوگوں کے پاس

Comments
Post a Comment