اُس کے سرہانے تلے ملا وہ خط واقعی آخری خط ثابت ہوا۔ وہ اب تک سکتے میں تھی ۔۔۔ اب اُسے یہ زندگی، اک کٹھن زندگی اس کے بغیر جینی تھی۔۔۔ اُسے کچھ یاد آیا اور وہ دوڑتی ہوئی گئی اور الماری سے وہ بیگ نکال لائی کہ جس میں اس کے تمام خط تھے۔۔۔۔ وہ کوئی خاص خط ڈھونڈ رہی تھی۔ اس نے ایک خط کھولا اور پڑھنے لگی ۔۔۔ کیونکہ اس خط میں ہی وہ ہمت تھی جو اسے درکار تھی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
" آج نومبر کی آخری شام ہے "
ایسے محسوس ہوتا ہے کہ تم سے ملے ایک دہائی بیت گئی ہے۔ تمہاری آنکھوں کا رنگ اور چہرے کے خدوخال ذہن سے مٹ چکے ہیں۔ ( میں نے تمہاری آنکھوں اور تمہارے چہرے کو کبھی ایک لمحے سے زیادہ دیر کے لیے دیکھا ہی کب ہے!) وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے۔ گردِ وقت کی تہیں نقشِ کفِ پا مٹا دیتی ہیں۔ خشک آنکھوں سے خون بہنے لگتا ہے۔ زندگی کی مصروفیات ہم سے احساس چھین لیتی ہیں۔ اپنوں کی کمی کا احساس ۔۔۔ اور پھر ہم لوگ سیلفش ہو جاتے ہیں۔ اس دنیا کی حقیقتوں کی چکی میں پس کر یوں لگتا ہے کہ کچھ بھی حقیقت نہیں ہے۔۔۔
خیر، آج کچھ فرصت ملی تو ڈوبتے سورج کے ساتھ ارندھتی رائے کو پڑھنے آٰیا مگر یہاں تو منظر یکسر تبدیل تھا۔ اونچی اونچی عمارتوں کے عقب میں سورج بہت پہلے ڈوب چکا تھا۔ مجھے یاد ہے انٹرمیڈیٹ کے امتحانوں میں آرگینک کیمسٹری میں نے ان شاموں میں پڑھی تھی۔ کیا دن تھے!دور ۔۔۔ افق کے پہاڑوں کے پیچھے ڈوبا کرتا تھا سورج۔۔۔ وہ چودھویں کے چاند کا انتظار ۔۔۔ کچھ بھی نہیں رہا۔
سردی بڑھتی جا رہی ہے۔ اپنا خیال رکھا کرو۔ سنا ہے چنار کے درخت تلے بیٹھے کڑھائی کرتی رہتی ہو۔ رحیم یار بتا رہا تھا۔ وہ جب بھی آتا ہے مجھ سے ضرور مل کر جاتا ہے۔ اور تم نے جو رومال بُن کر بھیجا تھا وہ تم جانتی ہو کہ میں نے صندوق میں رکھ دیا تھا ۔ جب بھی کھولتا ہوں اسے دیکھ کر مسکراتا ہوں ۔۔۔ یاد ہے؟ تم نے میرا نام کڑھا تھا اور اس میں " ز " نہیں لکھا تھا ۔۔۔ تمہارا اندازہ ٹھیک ہوا۔ آج تم نہیں ہو۔۔۔ مِٹ گئی ہو۔۔۔،میرے نام میں سے اپنے نام کے پہلے حرف کی طرح۔۔۔
یہ شاید آخری خط ہو، بلکہ آخری ادھورا خط۔۔۔ جو تمہیں ملے، میں ترکی جا رہا ہوں مزید پڑھائی کے لیے۔ اپنا خیال رکھنا اور دعاؤں میں یاد رکھنا ۔۔۔ ملنا مقدر ہوا تو مل جائیں گے ورنہ وقت کی رو میں بہہ جائیں گے
تمہارا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Comments
Post a Comment