Skip to main content

آخری ادھورا خط ( قسط دوم )


 


اُس کے سرہانے تلے ملا وہ خط واقعی آخری خط ثابت ہوا۔ وہ اب تک سکتے میں تھی ۔۔۔ اب اُسے یہ زندگی، اک کٹھن زندگی اس کے بغیر جینی تھی۔۔۔ اُسے کچھ یاد آیا اور وہ دوڑتی ہوئی گئی اور الماری سے وہ بیگ نکال لائی کہ جس میں اس  کے تمام خط تھے۔۔۔۔ وہ کوئی خاص خط ڈھونڈ رہی تھی۔ اس نے ایک خط کھولا اور پڑھنے لگی ۔۔۔ کیونکہ اس خط میں ہی وہ ہمت تھی جو اسے درکار تھی۔  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

" آج نومبر کی آخری شام ہے "

ایسے محسوس ہوتا ہے کہ تم سے ملے ایک دہائی بیت گئی ہے۔ تمہاری آنکھوں کا رنگ اور چہرے کے خدوخال ذہن سے مٹ چکے ہیں۔ (  میں نے تمہاری آنکھوں اور تمہارے چہرے کو کبھی ایک لمحے سے زیادہ دیر کے لیے دیکھا ہی کب ہے!)   وقت بہت تیزی سے  گزر رہا ہے۔  گردِ وقت کی تہیں نقشِ کفِ پا مٹا دیتی ہیں۔ خشک آنکھوں سے خون  بہنے لگتا ہے۔ زندگی کی مصروفیات ہم سے احساس چھین لیتی ہیں۔ اپنوں کی کمی کا احساس ۔۔۔ اور پھر ہم لوگ سیلفش ہو جاتے ہیں۔ اس دنیا کی حقیقتوں کی چکی میں پس کر یوں لگتا ہے کہ کچھ بھی حقیقت نہیں ہے۔۔۔ 
خیر، آج کچھ فرصت ملی تو ڈوبتے سورج کے ساتھ ارندھتی رائے کو پڑھنے آٰیا مگر یہاں تو منظر یکسر تبدیل تھا۔ اونچی اونچی عمارتوں کے عقب میں سورج بہت پہلے ڈوب چکا تھا۔ مجھے یاد ہے انٹرمیڈیٹ کے امتحانوں میں آرگینک کیمسٹری میں نے ان  شاموں میں پڑھی تھی۔ کیا دن تھے!دور ۔۔۔ افق کے پہاڑوں کے پیچھے ڈوبا کرتا تھا سورج۔۔۔ وہ چودھویں کے چاند کا انتظار ۔۔۔ کچھ بھی  نہیں رہا۔  
سردی بڑھتی جا رہی ہے۔ اپنا خیال رکھا کرو۔ سنا ہے چنار کے درخت تلے بیٹھے کڑھائی کرتی رہتی ہو۔ رحیم یار بتا رہا تھا۔ وہ  جب بھی آتا ہے مجھ سے ضرور مل کر جاتا ہے۔ اور  تم نے جو رومال بُن کر بھیجا تھا وہ تم جانتی ہو کہ میں نے صندوق میں  رکھ دیا تھا ۔ جب بھی کھولتا ہوں اسے دیکھ کر مسکراتا ہوں ۔۔۔ یاد ہے؟ تم نے میرا نام کڑھا تھا اور اس میں " ز " نہیں لکھا تھا ۔۔۔ تمہارا اندازہ ٹھیک ہوا۔ آج تم نہیں ہو۔۔۔ مِٹ گئی ہو۔۔۔،میرے نام میں سے اپنے نام کے پہلے حرف کی طرح۔۔۔  

یہ شاید آخری خط ہو، بلکہ آخری ادھورا خط۔۔۔ جو تمہیں ملے،  میں ترکی جا رہا ہوں مزید پڑھائی کے لیے۔ اپنا خیال رکھنا اور دعاؤں میں یاد رکھنا ۔۔۔ ملنا مقدر ہوا تو مل جائیں گے ورنہ وقت کی رو میں بہہ جائیں گے 

تمہارا 


ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  

Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...