تمہیں یاد ہیں وہ اکتوبر کی خنک ہوتی شامیں جب ہم باہر لان میں بیٹھ کر دن بھر کی روداد ایک دوسرے کو سناتے تھے۔ میں اپنے آفس کی کہانیاں اور تم گھر کی۔ کون آٰیا تھا۔ کس نے کیا کہا۔ خاندان میں پھیلتی خبریں۔۔۔ ہم خوب ہنستے تھے۔ تم خواب بُننا جانتی تھی۔ میں تمہیں رنگ برنگے دھاگے لا کر دیتا تھا۔ اپنے باغ کا وہ چمبیلی کا درخت یاد ہے؟ تم بالوں پر لگانے کے لیے اکثر ہار بنایا کرتی تھی۔ ہم دونوں ایک سے تھے۔ چودھویں کے چاند کا مہینہ بھر انتظار کرتے تھے ۔۔۔ خزاں رسیدہ جامن کے درخت کی خشک ٹہنیوں کی اوٹ میں چاند کو رکھ کر دیکھتے تھے۔ یاد ہے؟ مجھے اپنا تو نہیں معلوم لیکن تم نے ہمیشہ میرا دُکھ اپنے سر لیا ہے۔ تم نے ہمیشہ میرے آنسو پونچھے ہیں۔ ۔۔۔ وہ سارے لمحے سراب محسوس ہوتے ہیں جو ہم نے ایک دوسرے کے بِنا گزارے ہیں۔ مجھے آج بھی اپنی وہ جھرجھری یاد آتی ہے تو بہت ہنستا ہوں۔۔۔
زندگی کی یہ آخری سانسیں تمہاری یادوں کے سہارے ہی تو لے رہا ہوں۔ ہم اپنی چاہت سے اس زندگی کو کبھی گلزار بنا دیتے ہیں اور کبھی خارزار۔۔۔ تم نے ہمیشہ میری راہ سے کانٹے چُنے ہیں۔۔۔ خیر، یادوں کا اک نہ تھمنے والا سیلاب ہے جو ذہن کے نہاں خانوں میں بہے جا رہا ہے۔۔۔ لیکن مجھ میں اب مزید لکھنے کی سکت نہیں رہی۔
شاید یہ میرے سرہانے تلے پڑا آخری خط ہو جو تمہیں ملے۔ شاید۔ زندگی کا کیا بھروسہ ہے۔۔۔
اپنا خیال رکھنا۔
اللہ حافظ

Comments
Post a Comment