وقت کب ٹھہرتا ہے! انسان کب تلک کسی جذبے کے اک آہنی حصار میں کسی کا انتظار کرے۔ آخر کب تلک۔۔۔ دم گھُٹتے لگتا ہے۔ کبھی رب سے جسارت مانگی تھی۔ اب ضبط مانگتے ہیں۔
اور جیے جاتے ہیں۔
زندگی کے تمام معاملات رب کے سپرد ۔۔۔
انسان بے وجہ اپنے کاندھوں پر وہ کام اٹھانا چاہتا ہے کہ جو اس کے بس میں ہی نہیں۔۔۔
آنسو ، مسکراہٹ، اطمینان!

Comments
Post a Comment