زندگی میں کچھ موڑ، کچھ دوراہے انسان کو عجب کشمکش میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ہم اس گھڑی کے آنے سے قبل ٹھہرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زندگی سے سوچنے کیلئے وقت مانگتے ہیں۔ لیکن وقت زمانے کی تپتی دھوپ میں پگھلتا جا رہا ہے۔ کہاں رکتا ہے! آنکھیں موند لیتے ہیں کہ موقع ٹل جائے تو کھولوں۔ دل ہی دل میں خدا سے یہ دعا کرتے ہیں کہ کوئ اور صورت بن جائے بس وہ صدیوں پر محیط لمحہ نہ آئے کہ جب اپنوں کا بھرم اور دل کی چاہت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو۔ وہ کٹھن ساعت کہ جب ترقی یا معاش کیلئے اپنوں سے دوری کا فیصلہ کرنا پڑ جائے۔ وہ مشکل گھڑی کہ جب دو خوابوں میں سے کسی ایک کی تعبیر ممکن ہو اور فیصلہ ہم نے کرنا ہو کہ ہمیں کون سا خواب عزیز تر ہے۔ خواب تو سبھی ایک سے عزیز ہوتے ہیں نا؟
لیکن پھر یہ احساس اور ایمان امید کی اک شمع بن کر دل و دماغ کے نہاں خانے کو روشن کر جاتا ہے کہ " ہمارا ہر فیصلہ ہماری نوشت_تقدیر میں ہمارے مالک کا لکھا ہوا ہے جو ہمارے بھلے کے سوا کچھ نہیں چاہتا، کہ جو ہمارے دل کے حال تک سے واقف ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ہمیں تاریکیوں میں دھکیلے " _____ اور پھر فکر دوراں کے دریچوں میں سے ایک دریچہ، ذہن کے ٹیبل پر بکھری پڑی فائلوں میں سے ایک فائل اس حتمی فیصلے کے ساتھ ہی بند ہو جاتی ہے!
بس فیصلے تو اب ہم رب کے مشورے سے ہی کیا کریں گے کیونکہ زندگی میں کچھ موڑ، کچھ دوراہے انسان کو عجب کشمکش میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ہم اس گھڑی کے آنے سے قبل ٹھہرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔
Comments
Post a Comment