یہ مبالغہ آرائ نہیں ہے اور نہ
ہی فقط لفظوں کی بناوٹ۔ بلکہ یہ اک ایسے دل کی کیفیت ہوتی ہے جو بس خواب بُن رہا ہوتا ہے۔ اور خودساختہ تاویلوں میں مگن ہوتا ہے۔ اللہ کبھی آُپکو اس کیفیت سے نہ گزارے۔ آمین
زندگی میں اکثر ایسے لمحات آتے ہیں۔
میں آج اس کیفیت میں اٹھا۔ وضو کر کہ قرآن کا اک حصہ خوش الحانی سے پڑھنے لگا۔ جوں جوں پڑھتا گیا ذہن کے دریچوں سے غبار چھٹتا گیا۔ بقول رب تعٰالیٰ دل کی نرم زمین پر بارش ہوتی محسوس ہوئ جس سے دل کی کھیتیاں لہلہانے لگیں۔ آنکھیں پُر نم ہوئیں اور پھر چھلک گئیں۔ سکون کی اُس کیفیت کو شاید میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔
رب کی رحمت کی یہی امید اور اس کی بندگی کا شوق ہی دلوں کیلئے زندگی ہے۔ ورنہ خود فریبی کے شکار یہ دل کب تک جیتے۔ کب تک میں یہ بار اٹھا سکتا جو میں پچھلے 5 سالوں سے اٹھائے ہوئے ہوں۔
اے اللہ! تیرا شکریہ۔ تجھ سے ہمت کے طلبگار ہیں۔ اور تُو ہم سے زیادہ اُن لوگوں کا خیال رکھنے والا ہے کہ جن کی خوشی ہم چاہتے ہیں۔ اپنی محبت کا نزول ہمارے دلوں پر فرما۔ بس تیری ان آزمائشوں سے گزر جائیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تو نے ہمارے لیے ابدی جنت تیار کر رکھی ہے۔ ہمیں اعتراف ہے کہ ہم کمزور حال ہیں۔ تو قوی ہے۔ تجھے تیری قدرت کا واسطہ ہمارے معاملات درست فرما دے۔ آمین۔

Comments
Post a Comment