شہر سے دور ریگِ صحرا پر آبلہ پا رقص کرتا وہ اجنبی خود کو تاج محل کی بالکنی پر کھڑا اک شہزادہ تصور کرتا ہے کہ جو اپنے مقام و مرتبہ کے زعم میں اپنے سامنے پھیلی سلطنت کے باشندوں کے ہیچ ہونے کا خیال ذہن میں لا کر مسکراتا ہے
وہ اپنی حالتِ زار کا قصور وار اک صحرا زدہ مسافر کو ٹھہراتا ہے کہ جو یہاں صدیاں صرف کر چکا۔ کاش کہ وہ تخت سے اتر آتا کہ اس کے غموں کا کچھ مداوا ہوتا۔
کاش وہ یہ سمجھ سکتا کہ دل سلطنت نہیں ہے جسے بادشاہ فتح کر سکیں یا جس پر کسی دوسرے انسان کا اختیار ہو بلکہ دل اک مکاں ہے.
!وہ اجنبی اب تلک محوِ رقص ہے

Comments
Post a Comment