فیسبک پر ہم ذہن و ہم خیال لوگوں سے گپ شپ رہتی ہے۔ گزرشتہ کل سحری کے وقت کی بات ہے۔ اک دوست نے پوسٹ لکھ
" لڑکیوں کے ذہنوں میں ڈالا جاتا ہے کہ جب وہ بڑی ہوں تو لڑکوں سے دور رہیں لڑکے برے ہوتے ہیں لیکن میرا یہ پرسیپشن ٹوٹ گیا۔ لڑکے اچھے بھی ہوتے ہیں۔ جو عورتوں کی عزت کرتے ہیں۔ غضِ بصر کرتے ہیں، جو کنٹرولڈ ہوتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ اور یہ کہ ۔۔۔ یہ تحریر ان لڑکوں کے نام ہے جو اچھے ہیں اور ہیلنگ کے سفر پر ہیں "۔
مجھے اس تحریر سے اتفاق ہے یا نہیں وہ الگ بحث ہے۔۔۔۔
"لیکن میں نے خود اعتمادی کا اظہار کرتے ہوۓ کمنٹ کر دیا کہ " تھینک یو
جو جواب آیا وہ حیران کُن تھا کہ " میں یہ تحریر لکھتے وقت آپ کے بارے میں بھی سوچ رہی تھی " ۔
حلانکہ اُن سے میری کچھ زیادہ بات بھی نہ ہوئ کبھی ۔ بس کوئ نا کوئ پوسٹ شیئر کر دیا کرتا ہوں یا کسی نا کسی بات پر رائے کا اظہار۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زندگی میں کچھ " ٹریجِک " واقعات کے باعث میں جذباتی طور پر کافی " اِن سیکیور " ہو گیا ہوں۔ کسی بھی معاملے میں نہ تو فورا جذباتی ردِ عمل ظاہر کرتا ہوں۔ چاہے خوشی کی بات ہو یا غم ناک واقعہ اور نہ زیادہ سوچتا ہوں
اس سے پہلے کہ میں خوشی سے موٹا ہو جاؤں میں نے اپنے ذہن میں ایک ہی جملہ دہرایا :
" ایسے بن جاؤ کہ فرشتوں کی محفل میں اچھے لڑکے کہلاؤ "
وہی نا ۔۔۔ دنیا اپنے زاویہ نظر بدلتی رہتی ہے۔ آج اچھا تو کل برا، آج دھتکارا ہوا تو کل منظورِ نظر۔۔۔ اور اللہ اپنی سنت میں اٹل ہے۔۔۔۔ وہ انصاف کرنے والی ذات ہے۔ وہ ایک ہی نظر سے ساری انسانیت کو دیکھتا ہے۔
اور پھر اپنے اچھے لڑکے ہونے پر مجھے لوگوں سے کسی پروف کی ضرورت ہے نہ کسی انعام کی توقع
عزیر امین
20/4/2021
5:30 AM.

Comments
Post a Comment