اس بار دسمبر اپنے ساتھ اک الگ نوعیت کی اُداسی لایا ہے۔ ہجر و وصال کی ( محبت کی نہیں ) اک منفرد کہانی خزاں کی زد میں آیا ہر پتہ سنا رہا تھا۔ اب خاموشی سی چھائی ہوئی ہے۔یادوں کے قافلے تھکے ہارے واپس لوٹ رہے ہیں اور دل ہی دل میں پھر کبھی اُن راہوں پر نہ چلنے کا عہد کر رہے ہیں۔ برگد کے درختوں پر کشیدہ محبت کی داستانیں مِٹ رہی ہیں ۔
سنہری ، مختصر شاموں میں اب داستانِ ہیر رانجھا نہیں بلکہ اُن بہادروں کی کہانیاںپڑھی جاتی ہیں جو اپنے مقصد سے، اپنی جان اور کریئر سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں۔طویل راتیں اضطراب کی جلتی آگ کو بھڑکاتی ہیں ۔ اوس میں لپٹی صبح کی بابرکت گھڑیاں اپنے من میں جھانکتے گزریں، خود کو پہچانتے گزریں، اور پھر اس مستقل جستجو سے پسِ پردہ بے بسی اور بے چینی کی کیفیت۔ اپنی پہچان کی کوشش اس سال کا حاصل ہے۔ جو کہ یقیناَ میری اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ لیکن اب بھی اک تشنگی سی ہے جو میں محسوس کرتا ہوں۔ ۔۔ جس تشنگی کے بجھانے میں تو شاید عمر کٹ جائے۔ خیر، وقت کی رفتار تھم رہی ہے۔ قدرت تھوڑی تلے ہاتھ رکھے بیٹھی ہے ۔بے یقینی اور مایوسی کی دُھند چھَٹ رہی ہے اور سارے جہاں کی توجہ میری طرف ہے کیونکہ آگے کی منزلوں کے تعین کا وقت ہوا چاہتا ہے۔

Comments
Post a Comment