موسمِ گرما کی راتوں میں تاروں بھرا شفاف آسماں مجھے میرے خواب یاد دلاتا ہے۔وہ خواب جو میں نےنہ جانے کیسے، مگر گنوا دیے تھے۔ وہ خواب جو مرے مقصدِ زندگی کے حصول کی راہ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اپنے مدار میں تیرتے ہر دو مادوں کے بیچ کڑوڑوں میل کا فاصلہ اور اس کائنات کی ہر شے کا دوسری کے ساتھ تعلق۔۔۔ مجھے یہ معاملہ اس بات پر دلالت کرتا محسوس ہوتا ہے کہ انسان کا بھی ان ستاروں سیاروں کے ساتھ کوئ تعلق ہے۔۔۔ انسان کا ذہن بھی اپنے ااندر اک پوری کائنات سموئے ہوئے ہے۔ جس میں ہر شے کا دوسری کی ساتھ تعلق ہے اور ہونا چاہیے۔ یہ زندگی اتنی محدود نہیں ہے کہ ہم انسانوں نے اس کو جتنا سمجھ رکھا ہے۔
پڑھائ ،انٹرٹینمنٹ محبت، شادی ، نوکری، پنشن ، جھگڑے ۔۔۔ ہم نے بس زندگی کو غیر شعوری طور پر سہی مگر بس اسی ڈومین میں قید کر رکھا ہے۔ہم نے زندگی میں خواب رکھے بھی ہیں تو بس نفع ، گھر ، گاڑی , لوگ۔۔۔
زندگیاں اک بوسیدہ فلو میں گزری چلی جا رہی ہیں۔ ہم نے کبھی رات آسمان کو آنکھیں بھر کر دیکھا جو نہیں ہے۔ کبھی اپنے ہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے۔۔۔ کسی گنجان سڑک پر ٹہلے جو نہیں کبھی۔ جو سوچتے ہیں ، وہ پریکٹیکل نہیں ہیں۔ اور جو کچھ کرتے ہیں وہ بنا سوچے سمجھے۔ عجیب تضاد ہے۔ کبھی زندگی کو بیٹھ کر سامنے کی دیوار پر لگے کسی فریم میں ڈال کر دیکھیں۔۔۔آ بِگ پکچر آف لائف ۔۔۔ تو زندگی میں بہت کچھ اہم دِکھے گا جو شاید پہلے آپ نہ دیکھ سکے ہوں۔ یقین مانیے آپ بھی خواب رکھتے ہیں۔ ایسا خواب جو آج تک کسی نے نہ دیکھا ہو۔ لیکن کچھ جھوٹی امیدوں نے ،کہ جو آپ نے اپنی ہی تسلی کے لیے گھڑ رکھی ہوتی ہیں،آپکے خواب کسی لاشعور کے سٹور روم میں دھکیل دیے ہوتے ہیں۔ ہوتا ایسا ہی ہے ۔ امید ، چاہے وہ درحقیقت امید ہی ہو
it consumes our energy in some way.
خیر ۔۔۔ یہ خواب کسی کے ذاتی نہیں ہوتے ۔ یہ آفاقی ہوتے ہیں۔ جو پلتے رہتے ہیں۔ بس اسے تکمیل پہنچانے کے لیے جو موزوں ہو۔ اُسے وقت آنے پر مِل جاتے ہیں۔
کبھی اپنی کسی پرانی ڈائری کی ورق گردانی کا اتفاق ہو تو پڑ ھ کرہنستا ہوں اور ہر بار خود سے پوچھتا ہوں کہ ۔۔۔ زندگی تو ایک لمحے کیلیے نہیں ٹھہری۔ ہم بھائ لوگ کیوں ٹھہر جاتے ہیں۔ زندگی کے کسی نازک موڑ سے تیزی سے گزر جانے کے بجائے ڈیرے ڈال لیتے ہیں ۔اور گزرتے قافلوں کو دیکھ کر حسرت کی نگاہ سے تکتے رہتے ہیں کہ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔

Comments
Post a Comment