موسم کی خوبصورتی مجھے عجیب کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہےاور میں کچھ کہے بغیر، کچھ لکھے بنا رہ نہیں پاتا۔
گہرے بادلوں کی دبیز چادر جب اس آلودگی سے اٹے جہان کو ڈھانپ لے، بادل گرجیں اور مائیں بچوں کو سینوں سے لگائے استغفار کا ورد کرنے لگیں۔گھروں کو لوٹتے ، بھیگتے راہ رو ۔۔۔ اور تیز ہوا اپنے ساتھ نمی کے خنک ذرات لانے لگےاور آنکھوں کے رستے ٹھنڈک سینے میں اترنے لگے۔ درختوں سے گرتے پتے خزاں کی نوید سنائیں ۔ پتوں پر پھسلتے بارش کے قطرے ۔۔۔ میں ایک ہاتھ سے کتاب کو سینے سے لگائے اور دوسرے ہاتھ کو بارش کی طرف پھیلائے بالکونی پر کھڑا ،سن رہا تھا، محسوس کر رہا تھا۔ وقت گویا کچھ لمحوں کیلئے تھم چکا تھا۔ فضا میں بس پرنالوں سے آتے چھتوں پر کھڑے پانیوں اور ہوا کی سرسراہٹ کا ساز تھا۔ اور بارش کی آواز ۔۔۔ گویا کوئ دھیمے لہجے میں گنگنا رہا ہو۔
یہ سب تھا ۔۔۔ مگرکوئ خیال تھا ۔۔۔ جس کی کمی کا احساس مجھے بے چین کیے ہوئے تھا۔جوں جوں رات بڑھ رہی تھی، یہ خیال شدت اختیار کیے جا رہا تھا۔ ہائے!آنے والی سردیوں کی لمبی راتیں ۔۔۔

Comments
Post a Comment