کمپیوٹر سکرین سے ، آنکھوں کے رستے اُداسی اور بے چینی دل میں ٹِپ ٹِپ گرتی ہے۔ ہم دیوانے اُکتا جاتے ہیں۔
اور گھر کا رستہ بھولی کسی چڑیا کی مانند جو سر جھکائےخاموش۔۔۔ شیڈ پر بیٹھی کسی اپنے کا انتظار کر رہی ہوتی ہے، ہم کسی خوبصورت شام، چودھویں رات یا سنہری صبح کی راہ دیکھتے ہیں۔
آج شام خوب تھی۔۔۔ہم دوڑے۔۔۔ بادل یوں برسے کہ گویا صدیوں کا دُکھ بہایا ہو۔ آسماں گہرے ابر کی زد میں آیا،سیاہ تھا۔ مغربی اُفق سے سورج ردائے ابر ہٹائے جھانک رہا تھا۔ اُس کے چہرے کی سُرخی تھی جو جہاں شاد ہوگیا۔ آسماں سے اترتے خاموش قطرے موتی معلوم ہونے لگے۔ ہم چُننے لگے۔ جنوب سے وصال کی خوشی میں آتی ، گیت گاتی خُنک ہوا کے جھونکوں کے دوش لہلاتے شجر جس کے گیلے ہلکے سبز رنگ کے پتوں پر سنہری عکس ۔۔۔ ہم دیوانوں کے سانس کھنچ گئے، روحیں کانپ اٹھیں۔
جب سورج 11 کلو وولٹ کے اونچے اونچے کھمبوں کے عقب میں ڈوبنے گا تو بادل رنگ بدلنے لگے۔۔۔ بادل ایسے کہ گویا کسی مصور نے آسماں کے کینوس پر کویئ خوبصورت خیال اُتارا ہو۔ اور اس خیال میں محبت کا سنہری رنگ بھر ا ہو۔ ہم لمبے لمبے سانس لینے لگے کہ اس منظرکی اک اک تفصیل روح میں اُتر جائے۔ اس امید کے ساتھ مسکراتے ہوئے ان بدلتے رنگوں کودیکھنے لگے کہ شاید آنکھوں میں بھر لیں مگر ہماری آنکھیں بہت چھوٹی ہیں کہ ان میں تصویر یار سما جائے۔
یوں حُسن کی تعریف میں غرق تھے کہ مشرق سے اندھیرا اُٹھنے لگا۔ ٹڈیوں کے بولنے کی آواز آنے لگی ۔ نہ جانے کیا مانگتی تھیں۔ ہم نے پھر سے اک گہرا سانس لیا ۔آنسو پونچھے۔ مسکرائے اوربوجھل قدموں کے ساتھ بار بار حسرت کی نگاہوں سے پلٹ کر دیکھتے ہوئےچلے آئے۔
ذہن کی تختی سے سارے بے معنی لفظ مٹنے لگے۔ادھورے کام یاد آنے لگے۔
-------
عزیر امین

Comments
Post a Comment