Skip to main content

افسانہ : مناظر

منظر 1:
موسمِ بہار کا تاروں بھرا آسمان میرے دل کی اُن  تاروں کو چھیڑتا ہے کہ جن کی حرکت سے خاموشی کا وہ خوبصورت ساز نکلتا ہے کہ وقت بھی ٹھہر کر سُنتا ہے۔ اور کچھ لمحوں کے لیے میں دنیا کے سارے غم بھُلا کر (اور یہ بھی بھول کر کہ ستارے درحقیقت اس دنیا سے بہت بڑے، گرم اور خوفناک ہوتے ہیں۔) آسمان میں تیرتے اُن "موتیوں" کے ہمراہ تیرنے لگتا ہوں۔ اور پھر وہاں سے خود کو زمین پر ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اور خود کو نہ پاتے ہوۓ، پھر  اپنے من میں غوطہ زن ہوتا ہوں تو یہی محسوس کرتا ہوں کہ میں تو خود سے بہت دور ہوں۔ کہکشاؤں دور۔  آئیڈیلسٹ جو ٹھہرا !
میں کون ہوں؟ میں کدھر ہوں؟  میں کیوں ہوں؟ میں ایسا کیوں ہوں، جیسا ہوں؟  اور پھر  خود شناسی  کا اک نہ ختم ہونے والا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
یہ سفر نہ جانے کتنی شاموں میں کٹے، نہ جانے کتنی راتوں میں یہ مسئلہ سلجھے لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ سفر مجھے، میرے اپنوں سے، میرے اللہ سے ملواۓ گا۔

منظر 2: :
اِس برقی آلودگی سے بہت دور  آسمان کو چھُوتے کسی پہاڑ پر ، جہاں سے تاروں بھرا آسمان بلکل واضع دِکھتا ہو، اتنا واضع کہ کہکشائیں دِکھیں ــــــ میں کسی "سول میٹ" کے ساتھ بیٹھا رب، وقت، انسان، کائنات، زندگی اور اس کی پیچیدگیوں پر بحث کروں۔
تاروں کی روشنی میں خورشید رضوی کو پڑھوں!
میرے لیے اس سے خوبصورت کسی لمحے کا تصور بھی محال ہے!

منظر 3 :
رات ہے،  دریا کنارے کے ساتھ ساتھ، بل کھاتی سڑک پر کہ جس کی دوسری جانب سرسوں کے کھیت ہیں میں سائیکل پر سوار، سورۃ الفجر کی تلاوت کرتا، تاروں کے ہمراہ سفر کر رہا ہوں۔ لہلہاتے کھیتوں کی سنسناہٹ، دریا کی سرگوشی اور ٹڈیوں کی مسلسل آواز خاموشی کو خوبصورتی بخش رہی ہے!

یہ مناظر  زندگی کے چار اہم تعلقات کی نشاندہی کر رہے ہیں:
- فطرت سے تعلق
- اپنی ذات سے تعلق
- اپنوں سے تعلق
- اللہ سے تعلق
اور یہی زندگی کا معنی ہے!

Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...