Skip to main content

خلاصہ
تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں
۔۔۔۔۔۔
زمین میں جن لوگوں کے پاس قوت و ذرائع ہوں ۔لوگوں کے خیالات و نظریات جن کے قابو میں ہوں( مثلا میڈیا)، اخلاقی قدریں اور اجتماعی نظام بنانے کی جو قدرت رکھتے ہوں ۔۔۔۔ اگر یہ لوگ صالح ہوں گے تو تمدن صحیح راہ پر چلے گا۔ اگر یہ بگڑ گۓ تو معاشرہ بگڑ جاۓ گا۔ تاریخ شاہد ہے۔  
اللہ رب العزت چاہتے ہیں کہ اس دنیا کا نطام ٹھیک ٹھیک چلے۔ اور اللہ کا قانون ہی لوگوں کا قانون بنے ، لہذا امامتِ صالحہ کا قیام دین کا حقیقی مقصود ہے۔ اللہ اپنے بندوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اس کے لیے کوشش کریں۔
لیکن،
اس معاملے میں اللہ رب العزت کی ایک سنت ہے!
یہاں پھل اسی کو ملے گا جو کاشتکاری میں محنت کرے گا ۔ صرف آپ کا نیک نیت ہونا یا بزرگ صفت ہونا کافی نہیں۔
یہی معاملہ حکومت سے متعلق بھی ہے۔
انسان کی دو حیثیتیں ہیں:
حیوانی اور اخلاقی۔ لیکن انسانی عروج و زوال اس کی اخلاقی طاقت یا اخلاقی حیثیت پر منحصر ہے۔ کیونکہ انسان کو ہم انسان کہتے ہی اخلاقیات کی وجہ سے ہیں۔
اور، اخلاق کے دو بڑے شعبے ہیں-
1- بنیادی انسانی اخلاقیات ( جو شخص ان اخلاقیات سے مزین ہو گا وہ سنتِ الہی کی رو سے کامیاب ہو گا چاہے وہ مسلمان ہے یا کافر)
2- اسلامی اخلاقیات (یہ بنیادی انسانی اخلاقیات کو ایک مقصد کی جانب موڑتے ہے، انہیں مستحکم کرتے ہے اور ان پر اخلاقِ فاضلہ کی امارت کھڑی کرتے ہیں)
اب امامت کے بارے اللہ کی کیا سنت ہے؟
اخلاقی طاقت کم ہو وسائل زیادہ--- فتح
وسائل کم اخلاقی طاقت زیادہ--- شکست
لیکن اگر اخلاقی طاقت میں اسلامی و بنیادی انسانی اخلاقیات دونوں شامل ہو جائیں--- فتح (مثال غزوہ بدر )
اخلاقی طاقت ( اسلامی و انسانی ) زیادہ اور وسائل بھی زیادہ --- یقینی فتح!
آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ اسلامی اخلاقیات کیا ہیں کہ جو اتنی طاقت رکھتے ہیں!؟
اسلامی اخلاقیات کے چار مراتب ہیں
ایمان، اسلام، تقوی اور احسان۔
جس کا ایمان مضبوط ہو گا وہ اسلام(یعنی اللہ کی اطاعت) کی سیڑھی پر چڑھ سکے گا اور جو اس اطاعت میں جتنا کامل ہو گا نفس کی اس کیفیت کو پا سکے گا کہ جو احساسِ ذمہ داری اور خدا ترسی سے پیدا ہوتی ہے- یعنی تقوی
اور جو شخص تقوی یعنی اللہ کا خوف  حاصل کر لے گا وہی احسان یعنی اللہ اور اس کے رسول  سے محبت کی سیڑھی پر چڑھ سکے گا۔ اور جس نے احسان کا رتبہ پا لیا وہ کبھی اللہ کی زمین پر کسی انسان کے بناۓ ہوۓ قانون کو نہیں برداشت کر سکتا وہ سر دھڑ کی بازی لگا دے گا اور یہی وہ مراتب ہیں جو دینداری کے پیماانے ہیں نہ کہ مراقبے، وظائف و نوافل وغیرہ !!







Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...