Skip to main content
"خلاصہ "
کتاب : سلامتی کا راستہ
مصنف : مولانا مودودی رح
۔۔۔۔۔۔۔
#کائنات کا نظام پورے امن کے ساتھ چل رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ کوئ اللہ ہے اور وہ ایک ہے تبھی تو یہ امن قائم ہے۔ لیکن۔۔۔
پھر انسان کی زندگی میں امن کیوں نہیں؟
اس کا جواب مولانا نے دیا کہ کیونکہ کائنات کی ہر چیز حقیقت کے مطابق چل رہی ہے لیکن جب تک انسان اپنی زندگی حقیقت کے مطابق نہیں بناۓ گا۔ امن نہیں پا سکے گا۔
حقیقت کے مطابق ہونا کیا ہے؟
یعنی اللّٰہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا
# انسان کی حیثیت اس کائنات میں صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اللّٰہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے کیونکہ اس کا اپنا اس کائنات میں کچھ بھی تو نہیں ہے۔ اللّٰہ جب چاہے اس کی پکڑ کر سکتا ہے اور یہ بچ بھی نہیں پاۓ گا۔
#یہ دنیا میں ظلم اور بے انصافی کی کیا وجہ ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے خود قانون بنانے کی کوشش کی ہے اور انسان جب بھی قانون بناتا ہے وہ کسی نا کسی کی طرف داری ضرور کرتا ہے۔ چاہے وہ اپنی ذات ہو، خاندان ہو یا قوم۔
# لہذا سلامتی یعنی امن کا واحد راستہ کیا ہے؟
وہ یہ ہے کہ انسان خود سے کسی بالاتر کی بالادستی کو تسلیم کرے۔ یعنی اس کی سزا اور اس کے سامنے جواب دہی کا خوف رکھے۔
کیا ایسی کوئ ہستی انسان ہو سکتا ہے؟
نہیں!!
کیونکہ انسان خودغرض اور جانبدار ہے۔
نتیجتاً وہ ذات صرف اور صرف اللّٰہ رب العزت کی ہے۔ ہمیں اُس کے سامنے ہی جوابدہی کا خوف ہونا چاہیے۔
#تو پھر جہاں انسان خود بادشاہ بن کر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہ رہا ہے تو اللّٰہ اس کو روکتا کیوں نہیں؟
کیونکہ یہی تو آزمائش ہے انسان کی ، اسی کی بنیاد پر تو ہمارا آخرت پر یقین ہے ورنہ تو آخرت کی ضرورت ہی نہ رہتی۔
۔۔۔۔
عزیر امین
#سلسلۂ_مطالعہ

Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...