رات کے دس بج رہے ہیں۔ کمرے کی لائٹ پھڑک رہی ہے۔ روشندان کے شیشے تھوڑی تھوڑی دیر بعد بج رہے ہیں۔ باہر سڑک پر رُکے پانی پر سے گزرتی گاڑیوں کی آواز۔۔۔
میرے ذہن کا سکوت بار بار ٹوٹ جاتا ہے۔
او ہو ۔۔۔ پھر شیشے بجنے لگے۔
خیر۔۔۔
آج موسمِ سرما کی پہلی بارش تھی۔ بہت گرج چمک کر ہوئ۔
جسم ٹھٹھر گۓ۔ بچوں کو ماؤں نے گرم کپڑے پہنا دیے۔ شام سے پہلے ہی رات کا سماں تھا۔ فضا دھل گئ۔ اب باہر نکلوں تو دیکھوں آسماں کا کیا حال ہے۔
بارش سے پہلے خوب ہوا چلی۔ اور درختوں نے بچے کچھے خشک پتے بھی راہوں میں پھینک دیے۔ پتوں کا شور تھا۔۔۔
پھر جب بارش ہوئ تو سڑکیں بھیگیں اور وہ خشک پتے اب زمین سے چپک کر رہ گۓ۔ اب اُن کی آبیاری نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔۔ تُم کہاں تھے؟ تمہارا خیال تو آج پھر میرے ہاں آیا تھا۔
وقت کتنا تیز گزرتا ہے نا۔ پتا ہی نہیں چلا ، دو۔۔۔۔۔
ذرا سوچو تو۔
آج موسمِ سرما کی پہلی بارش تھی۔
میرے ذہن کا سکوت بار بار ٹوٹ جاتا ہے۔
او ہو ۔۔۔ پھر شیشے بجنے لگے۔
خیر۔۔۔
آج موسمِ سرما کی پہلی بارش تھی۔ بہت گرج چمک کر ہوئ۔
جسم ٹھٹھر گۓ۔ بچوں کو ماؤں نے گرم کپڑے پہنا دیے۔ شام سے پہلے ہی رات کا سماں تھا۔ فضا دھل گئ۔ اب باہر نکلوں تو دیکھوں آسماں کا کیا حال ہے۔
بارش سے پہلے خوب ہوا چلی۔ اور درختوں نے بچے کچھے خشک پتے بھی راہوں میں پھینک دیے۔ پتوں کا شور تھا۔۔۔
پھر جب بارش ہوئ تو سڑکیں بھیگیں اور وہ خشک پتے اب زمین سے چپک کر رہ گۓ۔ اب اُن کی آبیاری نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔۔ تُم کہاں تھے؟ تمہارا خیال تو آج پھر میرے ہاں آیا تھا۔
وقت کتنا تیز گزرتا ہے نا۔ پتا ہی نہیں چلا ، دو۔۔۔۔۔
ذرا سوچو تو۔
آج موسمِ سرما کی پہلی بارش تھی۔
Comments
Post a Comment