Skip to main content
معاشرہ اور اس کے معیارات!
...........
آج ہمارے اس معاشرے میں ہر شخص اپنی معاشرتی کلاس کے مطابق معیار طے کر لیتا ہے۔ اور پھر وہ اسے ایک اصول کی حیثیت دے کر پورے معاشرے کو اس پر پرکھتا ہے۔ جبکہ اجتماعی زندگی کی بنیاد ہی یہ ہے ایک شخص کے اعمال، حتیٰ کہ خیالات تک کا دوسرے انسانوں پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ اور یوں یہ معیار ہر شہر, خاندان، ملک کے لحاظ سے تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔
کسی کا انفرادی معیار یا standard ہی معاشرے کے معیار میں ہلچل برپا کرتا ہے۔ اور ایک معیار اسی طرح ترقی کرتے ہوۓ معاشرے کا اجتماعی معیار بن جاتا ہے۔
ایک معاشرہ اگر پینٹ کوٹ میں ملبوس کسی شخص کو عزت دار کہتا ہے تو کون درویشی پسند کرے گا؟۔
ایک معاشرہ اگر consumerism پر چل رہا ہے تو کیا کوئ سادہ زندگی گزارے گا؟
جو معاشرہ تعلیم کو اہمیت دیتا ہے ، اُس میں کیا کوئ ان پڑھ رہ سکتا ہے؟
جہاں اخلاق کو اجتماعی معیار قرار دیا جاۓ، وہاں غیر اخلاقی حرکت کرتے ہوۓ کوئ جھجکے گا نہیں کیا؟
جہاں شادی کے لیے معیار خوبصورتی، پیسا، گاڑی، بنگلا ہو۔ کیا وہ معاشرہ اخلاق و تربیت کو اہمیت دینے والی نسل تیار کر پاۓ گا؟
یقیناً اوپر کیے گۓ تمام سوالوں کا جواب آپ نے "نہیں" میں دیا ہو گا!
اور ان سوالوں پر غور کرنے سے ایک اور نکتہ واضع ہوتا ہے کہ ان معیارات کو رائج کرنے میں حکومتِ وقت کا بھی اتنا ہی کردار ہے جتنا کہ ایک فرد کا ہے۔ اور اس راہ سے ان معیارات کو بدلنا بھی آسان ہے مثلاً آج کے دور میں یہ معیارات ہمارے معاشرے میں میڈیا کے ذریعے smuggle ہو رہے ہیں۔ جس کی باگیں حکومت کے ہاتھ میں ہیں۔
آئیے اپنے حصہ کی زمہ داری پوری کریں اور اس معاشرے کو مل کر مثبت standards دیں۔جس کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے انفرادی معیار پر نظرِ ثانی کرنی ہو گی۔ اسے اپنی "بے نیازی" کے ذریعے ٹھیک پگڈنڈی پر چلانا ہو گا اور پھر ہر شخص اسے اپنے اثر و رسوخ کے مطابق معاشرے میں پھیلاتا چلا جاۓ گا۔ اور یاد رکھیے!
معاشرتی سطح پر مثبت تبدیلی اسلامی انقلاب کی راہ پر ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
.........
عزیر امین

Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...