جدید غم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرمیوں کا موسم ہے۔ رات کے بارہ بج رہے ہیں۔ وہ اپنوں سے دور کسی خاموش علاقے میں ایک چھوٹے سے کمرے میں اکیلا رہتا ہے۔ اس کے کمرے میں ایک old-fashioned کرسی اور میز پر کتابیں بکھری پڑی ہیں۔ قریب ہی کلیاتِ جون پر ایک موم بتی پڑی جل رہی ہے۔ جس کی لو مسلسل کھڑکی کی زنگ آلود سلاخوں سے آتی ہوا کی وجہ سے کانپ رہی ہے۔اُس کے پاس ایک سرہانہ ہےجو نہ جانے روزانہ کتنے آنسو جزب کرتا ہے، ایک چٹائی اور ایک چادر ہے بس! وہ کرسی پر گُم سم بیٹھا چھت کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی ہے لیکن شاید آج اس نے آنسو نہ بہانے کی خود سے قسم کھا رکھی ہے۔ مجال ہے جو گال گیلے ہوں۔ اور وہ رقت آمیز آواز میں ایک ہی شعر مسلسل گنگنا رہا ہے
رات بھر درد کی شمع جلتی رہی!
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر!
موم بتی کا شعلہ کتاب کو جلانے ہی والا تھا کہ۔۔۔۔
لائٹ آ گئ!! اس نے فوراً پھونک ماری کر موم بتی بجھائ،جھٹ سے اٹھا، کِواڑ بند کیے، فون چارجنگ پہ لگایا اور اسائمنٹ چھاپنے بیٹھ گیا کیونکہ کل سبمِشن کی آخری تاریخ ہے!
۔۔۔۔۔۔۔
سبق : "ہر دور میں غم کی شدت ایک سی رہی ہے بس نوعیت بدل جاتی ہے!"
۔۔۔۔۔
عزیر امین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرمیوں کا موسم ہے۔ رات کے بارہ بج رہے ہیں۔ وہ اپنوں سے دور کسی خاموش علاقے میں ایک چھوٹے سے کمرے میں اکیلا رہتا ہے۔ اس کے کمرے میں ایک old-fashioned کرسی اور میز پر کتابیں بکھری پڑی ہیں۔ قریب ہی کلیاتِ جون پر ایک موم بتی پڑی جل رہی ہے۔ جس کی لو مسلسل کھڑکی کی زنگ آلود سلاخوں سے آتی ہوا کی وجہ سے کانپ رہی ہے۔اُس کے پاس ایک سرہانہ ہےجو نہ جانے روزانہ کتنے آنسو جزب کرتا ہے، ایک چٹائی اور ایک چادر ہے بس! وہ کرسی پر گُم سم بیٹھا چھت کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی ہے لیکن شاید آج اس نے آنسو نہ بہانے کی خود سے قسم کھا رکھی ہے۔ مجال ہے جو گال گیلے ہوں۔ اور وہ رقت آمیز آواز میں ایک ہی شعر مسلسل گنگنا رہا ہے
رات بھر درد کی شمع جلتی رہی!
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر!
موم بتی کا شعلہ کتاب کو جلانے ہی والا تھا کہ۔۔۔۔
لائٹ آ گئ!! اس نے فوراً پھونک ماری کر موم بتی بجھائ،جھٹ سے اٹھا، کِواڑ بند کیے، فون چارجنگ پہ لگایا اور اسائمنٹ چھاپنے بیٹھ گیا کیونکہ کل سبمِشن کی آخری تاریخ ہے!
۔۔۔۔۔۔۔
سبق : "ہر دور میں غم کی شدت ایک سی رہی ہے بس نوعیت بدل جاتی ہے!"
۔۔۔۔۔
عزیر امین

Comments
Post a Comment