اّنیسویں بہار۔
(بموقع سالگرہ )
۔۔۔۔۔۔
زندگی اک "خاموش" بہتی آبشار کی مانند گزری چلی جا رہی ہے۔ اس بہتی آبشار کی آواز کو میرے دل میں بسی ہمت اور میری آنکھوں کے سامنے سجے آفاقی مقصد نے دبا رکھا ہے۔ یہی وہ مقصد ہے جس نے مجھے اپنی خواہشوں سے لڑنے کی ہمت دی مرے جزبات کو اک سمت دی۔ مرے دل کو قرار بخشا۔ خیر ۔۔۔ اس سفر کے پیچھے اٹھارہ بہاروں کی کہانی ہے۔ مجھے میرے گھر میں ہمیشہ اک خاص مقام اور مرتبہ دیا گیا۔ میری تربیت کے لیے مجھے خوب ماحول بخشا گیا۔ سفر جو پی سی گیمز کے جنون سے شروع ہوا تھا، آج زندگی کے معانی کو تلاشنے کی فکر اور کتاب سے محبت پر آ پہنچا ہے۔ مجھے تو بس اتنا یاد ہے کہ میں نے اپنے گھر کی لائبریری میں پڑی کہانیوں کی کتابوں سے اس محبت کا آغاز کیا جو نسیم حجازی کی ناولز سے ہوتی ہوئی مولانا مودودی رح کی فکر انگیز کتب پر آ ٹھہری۔ رومانوی طبعیت کو قدرت کی خوبصورتیوں اور اردو شاعری نے تسکین بخشی۔۔۔ چودھویں کے چاند کا انتظار، تاروں سے باتیں، خزاں کا غم، ڈھلتی شاموں اور کتاب، سردیوں کی راتیں، بہار میں انتظار۔۔۔ میں ہمیشہ ان سب موضوعات کے بارے میں ایکسائٹڈ رہا۔۔۔ اور میرا تجسس سائنس کے ہاتھ لگا۔ پریکٹیکل لائف میں کچھ غلطیاں کیں جو ناقابلِ تلافی ہیں۔ اور یہ غلطیاں میری زندگی کے ڈیجیٹلائز ہونے سے ہی شروع ہو گئیں تھیں۔۔۔ کاغذ کی کشتی اور ریت کے گھر سے شروع ہونے والی یادیں آج سوشل میڈیا پر ٹھہری ہوئی ہیں۔ جانے دو !!
بچپن ختم، لڑکپن گیا۔۔۔ یعنی:
خشک پتے گِر چکے ہیں
اب بہار سے کہہ دو آ جاۓ۔
اور ہاں۔۔۔۔ دعاؤں کی درخواست !!
۔۔۔۔۔۔۔
عزیر امین۔
(بموقع سالگرہ )
۔۔۔۔۔۔
زندگی اک "خاموش" بہتی آبشار کی مانند گزری چلی جا رہی ہے۔ اس بہتی آبشار کی آواز کو میرے دل میں بسی ہمت اور میری آنکھوں کے سامنے سجے آفاقی مقصد نے دبا رکھا ہے۔ یہی وہ مقصد ہے جس نے مجھے اپنی خواہشوں سے لڑنے کی ہمت دی مرے جزبات کو اک سمت دی۔ مرے دل کو قرار بخشا۔ خیر ۔۔۔ اس سفر کے پیچھے اٹھارہ بہاروں کی کہانی ہے۔ مجھے میرے گھر میں ہمیشہ اک خاص مقام اور مرتبہ دیا گیا۔ میری تربیت کے لیے مجھے خوب ماحول بخشا گیا۔ سفر جو پی سی گیمز کے جنون سے شروع ہوا تھا، آج زندگی کے معانی کو تلاشنے کی فکر اور کتاب سے محبت پر آ پہنچا ہے۔ مجھے تو بس اتنا یاد ہے کہ میں نے اپنے گھر کی لائبریری میں پڑی کہانیوں کی کتابوں سے اس محبت کا آغاز کیا جو نسیم حجازی کی ناولز سے ہوتی ہوئی مولانا مودودی رح کی فکر انگیز کتب پر آ ٹھہری۔ رومانوی طبعیت کو قدرت کی خوبصورتیوں اور اردو شاعری نے تسکین بخشی۔۔۔ چودھویں کے چاند کا انتظار، تاروں سے باتیں، خزاں کا غم، ڈھلتی شاموں اور کتاب، سردیوں کی راتیں، بہار میں انتظار۔۔۔ میں ہمیشہ ان سب موضوعات کے بارے میں ایکسائٹڈ رہا۔۔۔ اور میرا تجسس سائنس کے ہاتھ لگا۔ پریکٹیکل لائف میں کچھ غلطیاں کیں جو ناقابلِ تلافی ہیں۔ اور یہ غلطیاں میری زندگی کے ڈیجیٹلائز ہونے سے ہی شروع ہو گئیں تھیں۔۔۔ کاغذ کی کشتی اور ریت کے گھر سے شروع ہونے والی یادیں آج سوشل میڈیا پر ٹھہری ہوئی ہیں۔ جانے دو !!
بچپن ختم، لڑکپن گیا۔۔۔ یعنی:
خشک پتے گِر چکے ہیں
اب بہار سے کہہ دو آ جاۓ۔
اور ہاں۔۔۔۔ دعاؤں کی درخواست !!
۔۔۔۔۔۔۔
عزیر امین۔
Comments
Post a Comment