Skip to main content
آج انسان کی زندگی دن بدن پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی جا رہی ہے۔ مصروفیات موبائل کے ماڈلز کی طرح اپڈیٹ ہوتی جا رہی ہیں ۔ وقت مختصر ہو رہا ہے۔ طرح طرح کی ڈِسٹریکشنز انسان کو پوری طرح گھیرے ہوۓ ہیں۔
غم، کاش کہ کسی کو کوئ غم ہی ہوتا۔ سنجیدہ اور قابلِ قدر اقدار اب ناپید ہو چکی ہیں۔ اور انسان کو فرصت ہی نہیں کہ اس گھٹن زدہ  حصار سے نکلے۔
انسان نشہ کرنے لگا ہے ۔ کسی کو کام کا نشہ اور کسی کو سگریٹ کا۔ کسی کو انسان کا نشہ اور کسی کو سوشل میڈیا اور یوٹیوب کا۔
مختصر یہ کہ انسان اک غیر فطری اور بے مقصد زندگی گزار رہا ہے !!
میرا من چاہتا ہے کہ سرد رات کو کھلے آسمان تلے بیٹھ کر لکڑیاں جلا کر وصل کے گیت گاؤں مگر کیا کروں کل اسئنمنٹ جمع کرانی ہے۔
جی کرتا ہے کہ کوئ چھوٹا سا غم پالوں مگر کیا کروں۔ جدید دور کا انسان ہوں۔ خوشی کو سیلیبریٹ کرنے کا وقت نہیں ملتا تو۔
دل چاہتا ہے کتاب پڑھوں مگر کیا کروں
ٹائم مینیجمنٹ نے دل چھین لیا ہے۔
ایک بات بتاؤں !!
دل میں بہت سی اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی آرزوئیں ہیں جو اکیسویں صدی نے چھین لیں ہیں۔
میں نے فطری زندگی کے حوالے سے کچھ سراغ لگاۓ ہیں جو درج ذیل ہیں اور سائکولوجی کہتی ہے کہ جب انسان غیر فطری زندگی گزارنے لگے تو وہ درمیانی عمر میں جا کر عجیب ڈپریشن اور بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے۔
فطری زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو درج ذیل ہدایات پر عمل کر کر دیکھیے باقی یہ کہ مِڈ لائف کا تجربہ ابھی نہیں ہوا۔ لیٹس سی !!

1. روزانہ کچھ وقت کھلے آسمان تلے یا کسی باغ میں  درخت کے نیچے بینچ پر بیٹھ کر گزاریے
2. خوشی کا اظہار کھل کر کیا کریں
3. اپنے روابط میں اضافہ کریں
4. کبھی کبھی کوئ مثبت شغل بھی کیا کریں
5. اپنا مقصد یا ٹارگٹ ہر روز  دہرایا کریں ۔ یہ بھی عین فطری عمل ہے اس سے انسان ڈیسٹریکشنز سے بچا رہتا ہے ( مقصد فطری ہونا ضروری ہے )

6. اسلام دینِ فطرت ہے۔ اسلام کے احکامات پر عمل آپ کو داخلی طور پر بہت پرسکون بناۓ گا۔
7. شادی :) xD
۔۔۔۔۔۔
عزیر امین

Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...