ساون کا بادل بھی انسان کی خواہشوں اور آرزوؤں کی طرح چھوٹا ہوتا ہے۔ یہاں بارش اور وہاں تارے ، یہاں سایہ وہاں دھوپ ۔۔۔ بادل چمکتا ہے، گرجتا ہے ، برستا ہے اور پھر چند منٹ بعد اک دم خاموشی... بس بارش کی نمی میں بھیگی ہوا جب کھڑکی میں سے گزرتی ہے تو دھندلے شیشے کھڑکنے لگتے ہیں۔ اور جب یہ ہوا میرے جسم میں سے گزرتی ہے تو کیا کچھ بھول جاتا ہوں اور کیا کچھ یاد آ جاتا ہے۔ جب بارش کچھ دیر کو رکتی ہے تو پرندے شیڈ چھوڑ کر گیلی تاروں پر آ بیٹھتے ہیں اور تیزی سے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہیں۔جیسے کوئ صدیوں کا بوجھ ہو جو آج اترا ہو !! مینڈک ٹرَّانے لگتے ہیں۔ پروانے بھی نرم زمین میں سے سراخ کر کہ سیکڑوں کی تعداد میں نکلنے لگتے ہیں مگر ہر جانب جلے ہوۓ پر دیکھتا ہوں تو سوچنے لگتا ہوں کہ وہ چراغ کہاں ہے جس کی تلاش میں نکلے اور ٹکرا کر راکھ ہو گۓ ؟ پھر اپنے من میں ڈوب کر نکلتا ہوں تو میں بھی اک ایسے ہی چراغ کی تلاش میں خود کو پاتا ہوں۔ جھُرجھُری سی آ جاتی ہے۔
........
عزیر امین۔
........
عزیر امین۔

Comments
Post a Comment