Skip to main content
جب اندھیرا گھُپ ہو جاۓ تو بجاۓ اس کے کہ انسان روۓ، پیٹے اور واویلا کرے۔ اسے روشنی ایجاد کر لینی چاہیے۔ مگر اس قندیل کو جلانے کے لیے خوابوں کا تیل لگتا ہے ، ہمت اور جرأت کی بازی لگتی ہے ، جذبات کا خوں ہوتا ہے ۔ کیونکہ جب دل میں گھُٹن ڈیرا ڈالنے لگے تو احساس کی کھڑکیوں پر سے محبت کے پھول دار ، دبیز پردے اٹھانے پڑتے ہیں ۔ جیسے بے بسی ، توقعات اور خوابوں سے اکتایا ہوا شخص صبح  انگڑائیاں لیتا ہوا اٹھتا ہے اور تیزی سے کھڑکی پر سے پردے سرکاتے ہی بستر پر گِرتا ہے۔ اور خواب کے وہ سارے مناظر اپنے ذہن میں پھر سے دُہراتا ہے۔ اسی اثناء میں سورج کی ٹھنڈی روشنی کمرے کے ایک اک گوشے کو منور کر دیتی ہے۔اور اس کے دل سے وہ سارے غم مٹا دیتی ہیں جن سے وہ چاہتے ہوۓ بھی نہ بچ پاتا تھا۔ مگر وہ خواب رہ رہ کر اسے اذیت دینے آتے ہیں۔ اور وہ جھٹ سے جھٹک دیتا ہے۔وہ سارے خوف اسے پھر سے دکھتے ہیں مگر وہ اب ان پر یقین  ہی نہیں رکھتا۔ جب سورج کی کرنیں  ماحول کے باریک  ذروں پر پڑتی ہے تو ہر سمت  کہکشاں کا گماں ہونے لگتا ہے۔روشنی ایجاد ہو چکی تھی۔ محبت اور سکون کی جنگ میں اندھیرا ہار چکا تھا۔مگر اب باہر بادل چھا رہے تھے ، سورج چھپ رہا تھا۔ آندھی آنے کو تھی۔شاید روشنی کی قیمت تھی۔اک آزمائش کی بجلی تھی جو ہر اس شخص کے آنگن میں گِرتی ہے جو روشنی سے محبت کرتا ہے۔جو نفرتوں سے لڑتا ہے۔ اچانک  اک گلدان گِرا ۔۔۔ جو اس نے بہت سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ جس میں رکھا اک اک پھول کسی کی امانت تھا۔ طوفان کے خوف سے اُس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا۔ اُس کا بستر دھول سے اٹ گیا تھا۔وہ گھبرایا ، ایک نظر آسمان کی طرف دیکھا۔ فوراً بجلی چمکی تو  جھٹ سے اس نے کھڑکی بند کی اور  لمبے لمبے سانس لینے لگا۔اب پھر وہی اندھیرا تھا ، وہی صورت اور آنکھوں میں پھر  وہی خواب تھے ۔۔۔ وہ شخص ہار گیا تھا ۔ اندھیرا جیت گیا تھا۔ وہ دل  اک بُت خانہ  تھا۔حسرتوں اور آرزوؤں کا بُت خانہ ۔ تو اس میں آندھی کا گُزر کیا معنی !!وہ آندھی
فقط اک امتحان تھی-روشنی والوں کے لیے۔
اللّٰہ تعالیٰ جب انسان کا سینہ ہدایت کے لیے کھولتا ہے تو پہلے آزماتا ہے۔ جو صبر کر لیتے ہیں  وہ کامیاب ہو جاتے ہیں اور ان کے لیے اللّٰہ راہیں کھولتا ہے اور جن لوگوں کو خواب زیادہ عزیز ہوں تو وہ ان کو ٹوٹتا نہیں دیکھ سکتے ۔ جبکہ اللّٰہ پہلے بوسیدہ خواب توڑتا ہے اور پھر نئ امنگیں اور نۓ ولولے عطا کرتا ہے۔۔۔
اس دنیا میں نہ جانے دلوں کے کتنے کواڑ کھلتے اور بند ہوتے ہیں ۔۔۔ کتنے خواب ٹوٹنے ہیں اور کتنے ہی خواب بُنے جاتے ہیں ۔ روشنی اور اندھیرا ہمیشہ سے نبرد آزما ہیں ۔۔۔ کبھی اندھیرا جیت جاتا ہے اور کبھی روشنی ۔ اور جب گھُپ اندھیرا ہو جاۓ تو روشنی ایجاد کر لینی چاہیے۔!!
..............
عزیر امین۔

Comments

Popular posts from this blog

کہانی: آخری ادھورا خط - قسط 3

( یہ خط اس نے اُسے مارچ 2025 میں عید کے موقع پر لکھا تھا جس کے بعد وہ کراچی کام کی غرض سے جانے لگا تھا۔)  پیاری۔ پھر سے عید مبارک! انتظار۔ کسی انتہائی مختصر لمحے کا انتظار بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ کہ جس کا برسوں آپ نے انتظار کیا ہو۔ وہ سنگِ میل کہ جس کے بعد فراق کی سست گھڑی پھر سے چل پڑنے کا گمان ہو۔ وہ خیال کہ جو فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہو تو میں وقت کے رُک جانے کی دعا کیوں نا کروں چاہے سورج سوا نیزے پر ہو اور وقت کی بڑی سوئی پگل جائے اور چاہے میرے خواب مزید دس سال دوردکھنے لگیں۔  ایسے ہی اک لمحے کا میں نے انتظار کیا۔ تمہارا انتظار کیا۔ میں ںے خیال کیا تھا کہ تم نےآج سیاہ رنگ کا لباس اور سفید جھمکے پہنےہوں گے۔ تمہاری آنکھوں کی گہرائی کے بارے سوچا۔ تم سے کیا کہنا ہے۔ کیا سننا ہے۔ سب سوچ رکھا تھا۔ آج کے سارے پلینز کینسل کر کہ تمہارا انتظار کیا میں نے۔ تمہاری آواز کی لطافت کو محسوس کیا۔ بال سنوارے۔ تمہارا پسندیدہ پرفیوم لگایا۔۔۔  یقین مانو وہ لمحہ میری فرض کی ہوئی خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت تھا۔ تمہاری آنکھیں زیادہ گہری تھیں اور کاجل کا تو خیال ہ...

ان کہی

 ~ It was early spring, 1999, when the naked trees began to feel safe enough to pump life into tiny leaf buds. A lady sparrow had almost completed the nest on the louvered window of the dressing room. Amjad Chacha had restocked the kites as the sky grew clearer and the steady wind blew. 10 a.m. She was too excited to visit him. As she passed Chacha’s crowd, she released her finger from her mother’s hand and ran toward the rusty blue door. She was afraid of that grey dustbin, though—where they had found a snake’s skin last time. She ran past that dustbin and knocked—knock, knock... - - - She insisted on having lunch in a single plate with him. It was Chicken Pulao. Their love! They used to play all day long whenever they met—no homework. no tuition. That day, Sunday, 1999, 5 p.m. They were discussing their school and homework struggles, sitting under the Jamun tree after playing the whole day.  The elders were having chai and pakoray in the garden. Women were sharing their hect...

بارش

جب دھوپ کی حدت سے زمیں آگ اگل رہی تھی۔ مسافر سائباں ڈھونڈنے لگے۔ پرندوں نے ہجرت ترک کر دی۔تو رب تعالی نے اس تپتی دھوپ میں کام کرتے کسی مزدور کی دعا سن لی شاید کہ شمال سے گھٹائیں اٹھنے لگیں اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ بزرگوں نے آسمان کی جانب نظریں جما لیں۔ ماوں نے  گھر کی گھڑکیوں پر سے پردے ہٹا لیے  اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاہ ہو گیا۔ بجلی چمکی بادل گرجے۔ بچے ڈر کر گھروں کی جانب دوڑے۔ مائیں استغفار کا ورد کرنے لگیں اور بزرگ بچوں کو بہادری کا سبق دینے لگے۔ بارش برسنے لگی اور مٹی کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔  مٹی کی خوشبو سے یاد آیا -تب  تمہارا خیال آیا تھا۔ یونہی ہجر کی تمازت سے جب میرا حلق خشک ہونے لگتا ہے تو تمہاری یاد کا ہی سہارا رہتا ہے۔ تمہارے سنائے قصے یاد آنے لگتے ہیں۔   جب بارش خوب برس چکی اور باد صبا نے بادلوں کو لیے دوسرے شہر کا رخ کیا تو میں بھی تمہارا خیال اور ذہن میں بنی دھندلی سی تصویر کو لیے اس پہاڑ کے عقب میں نکل گیا - جہاں (یاد ہے تمہیں؟) جہاں اک چھوٹا سا پرسکون جنگل ہے جس کے وسط میں اک نہر بہتی ہے جو اکثر خشک رہتی ہےلیکن اس کی سطح بلند ت...