اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ !!
۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ،
آج مجھے جو کہنا ہے۔
جو سہنا ہے
مجھے آج ہی اسے کہہ لینے دو۔
سہہ لینے دو ،
آج ہی سارے گِلے ہو جائیں تو اچھا ہے۔
کہہ دوں گا۔۔۔
وقت نہیں تھا !!
جنہیں ملنا ہے مِل جائیں۔
جو بچھڑنا چاہیں
آج ہی میری بے نیازی کی عمر میں۔
بچھڑ جائیں۔
اچھا ہے !!
اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ۔
دو لمحے سستا لوں اب۔
مجھے ڈر ہے کہ۔۔۔
میں بھول جاؤں گا۔
آگے بڑھنے کے رستے سب۔
مجھے لِکھ لینے دو۔۔
تُم،اُس،فلاں،اُن سے رکھی۔
ساری توقعات جلا کر ۔۔۔
بچی ہوئ راکھ سے
سنگِ میل پر لِکھ لینے دو :
اچھا ہے !!
اپنے سارے بے معنی سے خواب
مقدس خواب۔
بے حُرمتی کے ڈر سے۔
بہتے دریا کی نذر کر دوں
پھر چلتا ہوں۔۔۔
اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ
اک خط کسی کی چوکھٹ پر
رکھنا ہے۔
رکھ آؤں ۔۔۔
پھر چلتا ہوں۔۔۔
اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ !!
۔۔۔۔۔۔
عزیر امین۔
۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ،
آج مجھے جو کہنا ہے۔
جو سہنا ہے
مجھے آج ہی اسے کہہ لینے دو۔
سہہ لینے دو ،
آج ہی سارے گِلے ہو جائیں تو اچھا ہے۔
کہہ دوں گا۔۔۔
وقت نہیں تھا !!
جنہیں ملنا ہے مِل جائیں۔
جو بچھڑنا چاہیں
آج ہی میری بے نیازی کی عمر میں۔
بچھڑ جائیں۔
اچھا ہے !!
اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ۔
دو لمحے سستا لوں اب۔
مجھے ڈر ہے کہ۔۔۔
میں بھول جاؤں گا۔
آگے بڑھنے کے رستے سب۔
مجھے لِکھ لینے دو۔۔
تُم،اُس،فلاں،اُن سے رکھی۔
ساری توقعات جلا کر ۔۔۔
بچی ہوئ راکھ سے
سنگِ میل پر لِکھ لینے دو :
اچھا ہے !!
اپنے سارے بے معنی سے خواب
مقدس خواب۔
بے حُرمتی کے ڈر سے۔
بہتے دریا کی نذر کر دوں
پھر چلتا ہوں۔۔۔
اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ
اک خط کسی کی چوکھٹ پر
رکھنا ہے۔
رکھ آؤں ۔۔۔
پھر چلتا ہوں۔۔۔
اے وقت ذرا ٹھہرو اب کہ !!
۔۔۔۔۔۔
عزیر امین۔

Comments
Post a Comment