"Get ready "
شعیب کا میسج آیا۔ میں صدر کی جانب رواں دواں تھا۔ طِحہ ہوا تھا کہ صدر میٹرو سٹیشن پر میں ، سمیع ، شعیب اور احمد ملیں گے ۔ اور اگلے سٹاپ سے جنید کو لیتے ہوۓ سینٹورس پہنچیں گے ۔ جہاں احسن ہمارا انتظار کر رہا ہو گا۔ ایسا ہی ہوا. اور ہم فیصل مسجد پہنچے۔وہاں شعیب نے موبائل نکال لیا اور فوٹوگرافی شروع کر دی ۔ ہر دو منٹ بعد پیچھے مڑ کر دیکھو تو وہ صاحب سیلفیوں میں مصروف نظر آتے تھے۔جب کوئ خوبصورت جگہ دکھتی تو کہتے " یہاں ایک تصویر تو بنتی ہے " ۔۔۔ خیر !! یہ سلسلہ جاری رہا اور ہم ٹریل 6 تک پہنچے ۔ ایک سیلفی اس بورڈ کے ساتھ ہوئ جس پر ٹریل 6 لکھا تھا ۔ اور ہم آگے چل دیے۔ شروع میں رات کی بارش کی وجہ سے رستہ تھوڑا خراب تھا۔بقول شعیب دو کی نیت خراب ہو گئ اور ایک کی طبیعت ۔ اب باقی بچے تین لوگ تو ان میں سے دو کی صحت خراب تھی اور ایک کا وزن۔ خیر یہ "خراب" گروہ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ شعیب بدستور "جگتیں" مار رہا تھا۔ احمد اور احسن تو وہاں فالسے کے درختوں پر پَل پڑے۔ بقول احمد یہ شہر سے کافی مہنگے ملتے تھے۔ اب مفت میں ملیں ہیں تو کیوں نہ کھائیں۔جنید خشک اور خاموش طبیعت کے ساتھ آہستہ آہستہ سب سے پیچھے آ رہا تھا۔ حال پوچھنے پر دھیمی آواز میں جواب ملتا " چلو چلو ۔ کچھ نہیں ہوا ". اور ہم بھی شرمندگی سے چل پڑتے ۔ اور سمیع !! وہ تو شاید اپنا وزن ہی سنبھال رہے تھے. اسی اثناء میں محسوس ہوا کہ رستہ مشکل ہوا جا رہا ہے۔ اب ہائیکنگ کی فیلنگز آنےلگیں۔اب لوگوں کی آمد و رفت دِکھنے لگی۔ دونوں طرف سے گھَنے درختوں کی قطار میں گھِرا اونچائ کی جانب بڑھتا تنگ ، پتھریلا رستہ زندگی کی مثال تھا۔ ہم کچھ دیر سستانے کو ہموار پتھروں پر بیٹھ گۓ۔جب سانس بحال ہوئ تو پھر چل پڑے ۔ اور اک ایسے اونچائی تک پہنچ گۓجہاں ہم نے خود کو چہار جانب سے مارگلہ کے خوبصورت پہاڑوں میں گھِرا پایا۔اور دو پہاڑوں کے بیچ سے اسلام آباد کی اونچی اونچی عمارتوں کا منظر انتہائ دلفریب تھا۔ اور اردگرد کے گھنے درختوں میں سے پرندوں کی خوبصورت آوازیں کانوں میں عجب رس گھول رہی تھیں ۔ تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر میں اک پتھر پر خاموشی سے بیٹھ گیا ۔ اور دل ہی دل میں اللّہ کی حمد بیان کرنے لگا ۔۔۔ یہ منظر میرے اس سفر کا حاصل تھا۔۔ ہم بے ساختہ بد تمیزوں کی طرح نعرے لگانے لگے۔اور بلکل اسی طرح پرندے درختوں پر سے اڑنے لگے جیسے محلے میں ٹرانسفارمر کے پھٹنےپر اڑتے ہیں ۔ اور دور دراز سے بھی ہمیں جواب موصول ہو رہے تھے ۔ سب ایک ہی منزل کے مسافر تھے۔ اور نہ دیکھتے ہوۓ بھی وہ اپنے لگ رہے تھے کیونکہ وہ ہماری آواز میں آواز ملا رہے تھے ورنہ تو کچھ لوگ قریب رہتے ہوۓ بھی بہت دور ہوتے ہیں ۔شاید وہ بھی اتنے ہیں ایکسائٹد تھے۔اسی لمحے ہمیں احساس ہواکہ رستہ تو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اور ۔۔۔ سمیع سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ابھی تو رستہ آدھا ہوا ہے۔ تھوڑے ڈر تو ہم بھی گۓ تھے کہ بارش بھی آن پڑی اور رستہ بھی بہت باقی ہے۔ سب نے ایک دوسرے کی ہمت بندھائی اور چل پڑے۔ہمت سے یاد آیا کہ جنید کی بھی بڑی ہمت تھی۔تبھی وہ اس لمحے بضد ہو گیا تھا کہ اور آگے نہیں جاۓ گا۔ اور کل تصویروں پر نظر پڑی تو جنید کچھ "اوکھا" سا دِکھ رہا تھا۔جو بھی ہے دل کی بات کہوں تو اس میں کچھ کر گزرنے کا سپرٹ ہے۔ خیر۔یوں ہم اک دوراہے پر پہنچے ۔ احسن کہنے لگا اس طرف چلتے ہیں اور شعیب چاہتا تھا اس طرف چلیں ۔ ابھی یہ طحہ ہونا تھا کہ احمد ہانپتا ہوا پہنچا ۔اور اکھڑی ہوئ سانس کے ساتھ گرجا۔
" چلو یار بس بہت ہوا ۔ اب اور آگے نہیں جانا ۔ میں تو اب بھوک سے مر جاؤں گا۔"۔۔اس کی بات کے ختم ہوتے ہی آسمان پر بادل گرجے ۔ اور آگے ہم چل دیے ۔ کیونکہ نقشے کے مطابق یہ رستہ واپسی کا دکھم چل دیے ۔ کیونکہ نقشے کے مطابق یہ رستہ واپسی کا دکھتا تھا مگر ایسا نہیں تھا۔ اور ہم نے بھی تھوڑی اونچائی پر جا کر اک بوڑھے درخت کو "ٹاپ آف دا ہِل " مان لیا اور وہاں کچھ تصویریں لینے کے بعد واپس لوٹنے کی ٹھان لی ۔اب تو جیسے پیر رکتے ہی نہ تھے ۔ مگر اب پتھروں پر کچھ نمی سی تھی اور ساتھیوں کے پاؤں سلپ ہو رہے تھے اور مزے کی بات یہ کہ کسی یونیورسٹی کے نازک لڑکے لڑکیوں کا گروپ ہمیں جاتے ہوۓ بھی واپس آتادکھا تھا اور اب بھی ہماری سماعتوں سے وہی انگریزی گانا ٹکرایا جو اک مشرق سے شرمندہ طالبِ علم کے ہاتھ میں پکڑے موبائل میں لگا ہوا تھا اور اس کا دوسرا ہاتھ اس کی کلاس فیلو یا بہن نے پکڑا ہوا تھا اور وہ بھی مسلسل انگریزی بولی چلی جا رہی تھی ۔۔۔ احمد نے آگے نکلتے ہوۓ اک قہقے کے ساتھ اس کی نقل لگائ۔ ہم دوڑتے ہوۓ اترے چلے جا رہے تھے ۔کچھ ہی قریب تھے کہ بادل گرجے اور بارش شروع ہو گئ۔ خیر ہم تھوڑے ہی بھیگے تھے کہ اک شیلٹر مل گیا ۔۔ پھر فیصل مسجد پہنچے ۔ صحن کی چمکدار ، سفید ٹایلوں پر بارش کے پانی کی باریک لہر میں سے جب میں گزرا تو حضرت سلیمان و ملکہ صبا کا قصہ ذہن میں تازہ ہو گیا۔۔ مگر نظر اٹھنے پر ذہن میں اک شرمندگی کا احساس اٹھا جب میں نے ننگے سر بے حیائ کو دیکھا۔ مسجد کہ جہاں رب سے ملاقات کی جاتی ہے وہاں تاریخیں رقم کی جا رہی تھیں۔مگر یہ تربیت کا معاملہ کم اور حکومت کا معاملہ زیادہ تھا ۔ اس لمحے مجھے اسلامی حکومت کی کمی محسوس ہونے لگی ۔ خیر !! جو بھی تھا ۔ ہم نے وہاں ظہر کی نماز ادا کی اور بھوک سے نڈھال سیور فوڈ پہنچے ۔ خوب جم کے کھایا اور بزریعہ میٹرو اپنے اپنے سٹیشنز پر اترے ۔ میں صدر سٹاپ پر سمیع ، احمد اور شعیب سے مل رہا تھا ۔ اور راولپنڈی صدر کی گیلی سڑک کے کے کنارے چلنے لگا اور پانی میں بازار کی زرق برق کا عکس دیکھ رہا تھا ۔اور بارش کے شور میں ہجوم کی آواز مدھم پڑ رہی تھی ۔ یہ زندگی کا دوسرا رُخ تھا ۔ زندگی اپنے عروج پر تھی ۔ مگر زوال تو خبر دیے بغیر آتا ہے۔ اونچائیاں اور پستیاں فکر کی ارتقاء کے لیے ضروری ہوتی ہیں ۔ مگر اچھے دوست ہوں تو رستے میں سائباں کی ضرورت نہیں رہتی۔۔۔
میں گھر پہنچا تو پورا بھیگا ہوا تھا۔ شاید اسی وجہ سے استقبال اچھا ہوا۔
اور یوں اک سفر تمام ہوا ۔ مگر
ابھی تو ساتھ چلنا ہے سمندر کی مسافت پر
کنارے پر ہی دیکھیں گے کنارا کون کرتا ہے۔
.................
عزیر امین۔
شعیب کا میسج آیا۔ میں صدر کی جانب رواں دواں تھا۔ طِحہ ہوا تھا کہ صدر میٹرو سٹیشن پر میں ، سمیع ، شعیب اور احمد ملیں گے ۔ اور اگلے سٹاپ سے جنید کو لیتے ہوۓ سینٹورس پہنچیں گے ۔ جہاں احسن ہمارا انتظار کر رہا ہو گا۔ ایسا ہی ہوا. اور ہم فیصل مسجد پہنچے۔وہاں شعیب نے موبائل نکال لیا اور فوٹوگرافی شروع کر دی ۔ ہر دو منٹ بعد پیچھے مڑ کر دیکھو تو وہ صاحب سیلفیوں میں مصروف نظر آتے تھے۔جب کوئ خوبصورت جگہ دکھتی تو کہتے " یہاں ایک تصویر تو بنتی ہے " ۔۔۔ خیر !! یہ سلسلہ جاری رہا اور ہم ٹریل 6 تک پہنچے ۔ ایک سیلفی اس بورڈ کے ساتھ ہوئ جس پر ٹریل 6 لکھا تھا ۔ اور ہم آگے چل دیے۔ شروع میں رات کی بارش کی وجہ سے رستہ تھوڑا خراب تھا۔بقول شعیب دو کی نیت خراب ہو گئ اور ایک کی طبیعت ۔ اب باقی بچے تین لوگ تو ان میں سے دو کی صحت خراب تھی اور ایک کا وزن۔ خیر یہ "خراب" گروہ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ شعیب بدستور "جگتیں" مار رہا تھا۔ احمد اور احسن تو وہاں فالسے کے درختوں پر پَل پڑے۔ بقول احمد یہ شہر سے کافی مہنگے ملتے تھے۔ اب مفت میں ملیں ہیں تو کیوں نہ کھائیں۔جنید خشک اور خاموش طبیعت کے ساتھ آہستہ آہستہ سب سے پیچھے آ رہا تھا۔ حال پوچھنے پر دھیمی آواز میں جواب ملتا " چلو چلو ۔ کچھ نہیں ہوا ". اور ہم بھی شرمندگی سے چل پڑتے ۔ اور سمیع !! وہ تو شاید اپنا وزن ہی سنبھال رہے تھے. اسی اثناء میں محسوس ہوا کہ رستہ مشکل ہوا جا رہا ہے۔ اب ہائیکنگ کی فیلنگز آنےلگیں۔اب لوگوں کی آمد و رفت دِکھنے لگی۔ دونوں طرف سے گھَنے درختوں کی قطار میں گھِرا اونچائ کی جانب بڑھتا تنگ ، پتھریلا رستہ زندگی کی مثال تھا۔ ہم کچھ دیر سستانے کو ہموار پتھروں پر بیٹھ گۓ۔جب سانس بحال ہوئ تو پھر چل پڑے ۔ اور اک ایسے اونچائی تک پہنچ گۓجہاں ہم نے خود کو چہار جانب سے مارگلہ کے خوبصورت پہاڑوں میں گھِرا پایا۔اور دو پہاڑوں کے بیچ سے اسلام آباد کی اونچی اونچی عمارتوں کا منظر انتہائ دلفریب تھا۔ اور اردگرد کے گھنے درختوں میں سے پرندوں کی خوبصورت آوازیں کانوں میں عجب رس گھول رہی تھیں ۔ تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر میں اک پتھر پر خاموشی سے بیٹھ گیا ۔ اور دل ہی دل میں اللّہ کی حمد بیان کرنے لگا ۔۔۔ یہ منظر میرے اس سفر کا حاصل تھا۔۔ ہم بے ساختہ بد تمیزوں کی طرح نعرے لگانے لگے۔اور بلکل اسی طرح پرندے درختوں پر سے اڑنے لگے جیسے محلے میں ٹرانسفارمر کے پھٹنےپر اڑتے ہیں ۔ اور دور دراز سے بھی ہمیں جواب موصول ہو رہے تھے ۔ سب ایک ہی منزل کے مسافر تھے۔ اور نہ دیکھتے ہوۓ بھی وہ اپنے لگ رہے تھے کیونکہ وہ ہماری آواز میں آواز ملا رہے تھے ورنہ تو کچھ لوگ قریب رہتے ہوۓ بھی بہت دور ہوتے ہیں ۔شاید وہ بھی اتنے ہیں ایکسائٹد تھے۔اسی لمحے ہمیں احساس ہواکہ رستہ تو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اور ۔۔۔ سمیع سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ابھی تو رستہ آدھا ہوا ہے۔ تھوڑے ڈر تو ہم بھی گۓ تھے کہ بارش بھی آن پڑی اور رستہ بھی بہت باقی ہے۔ سب نے ایک دوسرے کی ہمت بندھائی اور چل پڑے۔ہمت سے یاد آیا کہ جنید کی بھی بڑی ہمت تھی۔تبھی وہ اس لمحے بضد ہو گیا تھا کہ اور آگے نہیں جاۓ گا۔ اور کل تصویروں پر نظر پڑی تو جنید کچھ "اوکھا" سا دِکھ رہا تھا۔جو بھی ہے دل کی بات کہوں تو اس میں کچھ کر گزرنے کا سپرٹ ہے۔ خیر۔یوں ہم اک دوراہے پر پہنچے ۔ احسن کہنے لگا اس طرف چلتے ہیں اور شعیب چاہتا تھا اس طرف چلیں ۔ ابھی یہ طحہ ہونا تھا کہ احمد ہانپتا ہوا پہنچا ۔اور اکھڑی ہوئ سانس کے ساتھ گرجا۔
" چلو یار بس بہت ہوا ۔ اب اور آگے نہیں جانا ۔ میں تو اب بھوک سے مر جاؤں گا۔"۔۔اس کی بات کے ختم ہوتے ہی آسمان پر بادل گرجے ۔ اور آگے ہم چل دیے ۔ کیونکہ نقشے کے مطابق یہ رستہ واپسی کا دکھم چل دیے ۔ کیونکہ نقشے کے مطابق یہ رستہ واپسی کا دکھتا تھا مگر ایسا نہیں تھا۔ اور ہم نے بھی تھوڑی اونچائی پر جا کر اک بوڑھے درخت کو "ٹاپ آف دا ہِل " مان لیا اور وہاں کچھ تصویریں لینے کے بعد واپس لوٹنے کی ٹھان لی ۔اب تو جیسے پیر رکتے ہی نہ تھے ۔ مگر اب پتھروں پر کچھ نمی سی تھی اور ساتھیوں کے پاؤں سلپ ہو رہے تھے اور مزے کی بات یہ کہ کسی یونیورسٹی کے نازک لڑکے لڑکیوں کا گروپ ہمیں جاتے ہوۓ بھی واپس آتادکھا تھا اور اب بھی ہماری سماعتوں سے وہی انگریزی گانا ٹکرایا جو اک مشرق سے شرمندہ طالبِ علم کے ہاتھ میں پکڑے موبائل میں لگا ہوا تھا اور اس کا دوسرا ہاتھ اس کی کلاس فیلو یا بہن نے پکڑا ہوا تھا اور وہ بھی مسلسل انگریزی بولی چلی جا رہی تھی ۔۔۔ احمد نے آگے نکلتے ہوۓ اک قہقے کے ساتھ اس کی نقل لگائ۔ ہم دوڑتے ہوۓ اترے چلے جا رہے تھے ۔کچھ ہی قریب تھے کہ بادل گرجے اور بارش شروع ہو گئ۔ خیر ہم تھوڑے ہی بھیگے تھے کہ اک شیلٹر مل گیا ۔۔ پھر فیصل مسجد پہنچے ۔ صحن کی چمکدار ، سفید ٹایلوں پر بارش کے پانی کی باریک لہر میں سے جب میں گزرا تو حضرت سلیمان و ملکہ صبا کا قصہ ذہن میں تازہ ہو گیا۔۔ مگر نظر اٹھنے پر ذہن میں اک شرمندگی کا احساس اٹھا جب میں نے ننگے سر بے حیائ کو دیکھا۔ مسجد کہ جہاں رب سے ملاقات کی جاتی ہے وہاں تاریخیں رقم کی جا رہی تھیں۔مگر یہ تربیت کا معاملہ کم اور حکومت کا معاملہ زیادہ تھا ۔ اس لمحے مجھے اسلامی حکومت کی کمی محسوس ہونے لگی ۔ خیر !! جو بھی تھا ۔ ہم نے وہاں ظہر کی نماز ادا کی اور بھوک سے نڈھال سیور فوڈ پہنچے ۔ خوب جم کے کھایا اور بزریعہ میٹرو اپنے اپنے سٹیشنز پر اترے ۔ میں صدر سٹاپ پر سمیع ، احمد اور شعیب سے مل رہا تھا ۔ اور راولپنڈی صدر کی گیلی سڑک کے کے کنارے چلنے لگا اور پانی میں بازار کی زرق برق کا عکس دیکھ رہا تھا ۔اور بارش کے شور میں ہجوم کی آواز مدھم پڑ رہی تھی ۔ یہ زندگی کا دوسرا رُخ تھا ۔ زندگی اپنے عروج پر تھی ۔ مگر زوال تو خبر دیے بغیر آتا ہے۔ اونچائیاں اور پستیاں فکر کی ارتقاء کے لیے ضروری ہوتی ہیں ۔ مگر اچھے دوست ہوں تو رستے میں سائباں کی ضرورت نہیں رہتی۔۔۔
میں گھر پہنچا تو پورا بھیگا ہوا تھا۔ شاید اسی وجہ سے استقبال اچھا ہوا۔
اور یوں اک سفر تمام ہوا ۔ مگر
ابھی تو ساتھ چلنا ہے سمندر کی مسافت پر
کنارے پر ہی دیکھیں گے کنارا کون کرتا ہے۔
.................
عزیر امین۔

Comments
Post a Comment