<3 😊 فلسفئہ محبت
فروری کی چہچہاتی صُبحیں
اور خوشبودار شامیں۔۔۔
زندگی کی الجھنوں سے بیزار کر کہ
بے خطر سا کر کہ مجھ کو
جُھکے درخت کے ساۓ میں
لا بٹھا دیتی ہیں مجھ کو
اک کتاب تھما دیتی ہیں مجھ کو
صبح کی ٹھنڈک چھاؤں سے لے کر
شام کو ڈھلتے ساۓ تک
دم سادھ کے بیٹھا رہتا ہوں ۔۔۔
روز اک پرندہ آتا ہے
پھولوں کے دامن سے شاید
محبت چُن لے جاتا ہے
جھیل کے اُس پار سے
روز اک جھونکا آتا ہے
پانی میں لہریں بناتا ہوا
جھیل کے اِس پار آتا ہے
کنول کے نازک پھولوں سے
خوشبو چرا لیتا ہے
اور روز میری کتاب میں
اک پھول گِرا دیتا ہے
اُس پھول کا نام محبت ہے
ڈھلتے سورج کی ترچھی کرنیں
جھیل کی خاموشی میں
رنگ بھرتی ہیں ۔
اُسے رنگِ محبت کہتے ہیں ۔
اندھیرے کی گہرائیوں میں
ڈوبتے مشرق کے افق پر
اک تارہ چمکنے لگتا ہے ۔
مینڈک بولنے لگتا ہے
چڑیا ماں بھی گھر لوٹ آتی ہے ۔
وہ گھر محبت کہلاتا ہے
فروری کی چہچہاتی صُبحیں
اور خوشبودار شامیں ۔
مجھے محبت لوٹا دیتی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فروری کی چہچہاتی صُبحیں
اور خوشبودار شامیں۔۔۔
زندگی کی الجھنوں سے بیزار کر کہ
بے خطر سا کر کہ مجھ کو
جُھکے درخت کے ساۓ میں
لا بٹھا دیتی ہیں مجھ کو
اک کتاب تھما دیتی ہیں مجھ کو
صبح کی ٹھنڈک چھاؤں سے لے کر
شام کو ڈھلتے ساۓ تک
دم سادھ کے بیٹھا رہتا ہوں ۔۔۔
روز اک پرندہ آتا ہے
پھولوں کے دامن سے شاید
محبت چُن لے جاتا ہے
جھیل کے اُس پار سے
روز اک جھونکا آتا ہے
پانی میں لہریں بناتا ہوا
جھیل کے اِس پار آتا ہے
کنول کے نازک پھولوں سے
خوشبو چرا لیتا ہے
اور روز میری کتاب میں
اک پھول گِرا دیتا ہے
اُس پھول کا نام محبت ہے
ڈھلتے سورج کی ترچھی کرنیں
جھیل کی خاموشی میں
رنگ بھرتی ہیں ۔
اُسے رنگِ محبت کہتے ہیں ۔
اندھیرے کی گہرائیوں میں
ڈوبتے مشرق کے افق پر
اک تارہ چمکنے لگتا ہے ۔
مینڈک بولنے لگتا ہے
چڑیا ماں بھی گھر لوٹ آتی ہے ۔
وہ گھر محبت کہلاتا ہے
فروری کی چہچہاتی صُبحیں
اور خوشبودار شامیں ۔
مجھے محبت لوٹا دیتی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments
Post a Comment