اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو جب زمین پر اتارا تو اس کے سینے میں جذبات بھی اتارے ۔ انسان حساس بھی ہوتا ہے ، مضبوط بھی ۔ محبت بھی کرتا ہے اور نفرت بھی، دشمنی بھی مول لیتا ہے اور دوست بھی اچھا ہے ۔ روتا بھی ہے اور ہنسنا بھی جانتا ہے ، صبر بھی کرتا ہے اور جلد باز بھی بہت ہے ۔ انسان تو "آل اِن ون " ہے ۔ اللّٰہ نے اک مخلوق کو اتنی طاقتوں سے نواز ہے ، اتنی فوقیت دی ہے ۔ حتیٰ کہ فرشتے بھی جانتے تھے ۔ تبھی تو انہوں نے خون خرابے کا ذکر کیا لیکن اللّٰہ رب العزت کی ذات تو دوسرا رُخ بھی جانتی تھی ۔پھر اللّٰہ نے انسان کی زندگی کی اک حد متعین کر دی جسے انسان عُمر یا وقت کہتا ہے۔ اور پھر اللّٰہ اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے کہ ان سب نعمتوں کو اب میری راہ میں لگا دو ۔کتنی خوبصورت بات ہے نا کہ لامحدود ذات اک مٹی کے پتلے میں صلاحیتیں اور طاقتیں ڈال کر اسے سرسبز باغوں ، خوشنما وادیوں ، پتھر سے سر ٹکرتی سمندر کی لہروں کے بیچ اتار دیتا ہے اور پھر اک چھوٹا سا آڈر -اطاعت !! بس ان جزبوں کا ٹھیک استعمال ۔
مشکل کیا ہے ۔ اللہ کے دشمنوں سے دشمنی ، اس کے دوستوں کا رفیق ، خدا کے دین کے معاملے میں حساس ۔ حقوق العباد کے بارے میں اللّٰہ سے ڈر ۔ اُس کی راہ میں ثابت قدمی اور بس !! مگر ہاں۔ خدا کو اک بندھن بھی مطلوب ہے۔۔۔ اک سپریم جزبہ - ایمان !! یہ بھی دل کے ہی نِہاں خانے سے اٹھتا ہے اور اسی جذبے کی تعمیر و تکمیل کے لیے میرے اور آپ کے مالک نے اپنے فرمان بھیجے ۔ یہی وہ جزبہ ہے جو وہ باقی جذبات کو صحیح رُخ دیتا ہے ۔ اور پھر خدا کی رحمت دیکھیے کہ اُس نے نوعِ انسانی کے لیے وقتاً فوقتاً قاصد بھیجے ۔ جنہوں نے انسان کے اندر ایمان کا سپرِّٹ اجاگر کیا ۔اب اگر ربِّ عظیم نے انسان کے اتنا کچھ کیا تو وہ اس کی وفاداری کو جانچے گا نہیں ؟ اب اللّٰہ رب العزت انسان کے جذبات کے رُخ کو دو طرح سے جانچتا ہے ۔مشکلات و آفات اور شیطان ۔ جب آپ ایمان میں کمزور ٹھہرے تو آپ کے باقی جذبات کا زاویہ بھی کچھ الگ ہو جاۓ گا ۔ آپ کو ہر غیر کی محبت کے عِوض ایمان کی اک رمق بیچنی ہو گی ۔ اللّٰہ کے ہر دشمن اور نافرمان کا ساتھ دینے پر ایمان کا ایک حصہ کفارے میں نکلتا ہے ۔ اللّٰہ کی نافرمانی میں گزرے ہر لمحے کی قیمت ایمان کا ایک ٹکرا ہے ۔اب قرآن میں انسان کےلیے ایک اک بات کی ہدایت بھی موجود ہے اور اللّٰہ کی پالیسی بھی ۔تو فیصلہ اب انسان کے ہاتھ میں ہے ۔

Comments
Post a Comment